.

مشرقی الغوطہ میں واقع بڑے شہر دوما سے ہزاروں شہریوں کا انخلا

شامی حکومت سے سمجھوتے کے تحت حرستا سے احرار الشام کے جنگجو اور عام شہری ادلب جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما سے جمعرات کو ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر اسد رجیم کے عمل داری والے علاقے کی جانب جارہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ دوما سے جمعرات کی صبح قریباً ڈیڑھ ہزار افراد کا انخلا ہوا ہے ۔بدھ کی رات دوہزار کے لگ بھگ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر شامی حکومت کے عمل داری والے علاقے کی جانب چلے گئے تھے اور مزید کا انخلا ابھی جاری ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے اور شامی حکومت کے کنٹرول والے علاقے کے درمیان واقع ایک گذرگاہ الوافدین سے براہ راست ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہے۔دوما سے شامی شہریوں کا انخلا روس کی ضمانت کے نتیجے میں ہی ہورہا ہے۔

چند منٹ کے دورانیے کی اس ویڈیو میں بیسیوں افراد چھوٹے گروپوں کی صورت میں دوما شہر سے ایک نکڑ کی جانب آرہے ہیں اور اس کے بعد وہ مسلح فوجیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ٹوٹی پھوٹی شاہراہ کی جانب جارہے ہیں۔ان میں سے بعض نے تھوڑا بہت سامان اٹھایا ہوا ہے اور خواتین نے اپنی گود میں کم سن بچے لے رکھے ہیں۔

دوما مشرقی الغوطہ میں سب سے گنجان آباد علاقہ ہے اور شامی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے سے اس کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔ اس پر باغی گروپ جیش الاسلام کا کنٹرول ہے اور اس نے تادم مرگ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے۔تاہم شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ دوما سے گھربار چھوڑ کر آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ جیش الاسلام اور شامی حکومت کے قریبی اتحادی روس کے درمیان سمجھوتے کے بعد شہر خالی کررہے ہیں۔

حرستا سے باغیوں کا انخلا

ایک اور باغی گروپ احرار الشام نے بدھ کو مشرقی الغوطہ میں واقع اپنے زیر قبضہ قصبے حرستا کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔اس نے شامی فورسز سے باغیوں کے زیر قبضہ صوبے ادلب جانے کے لیے محفوظ راہداری کے بدلے میں انخلا پر رضامندی ظاہری کی تھی۔اس سمجھوتے کے تحت سیکڑوں مسلح باغی اور عام شہری شامی فوج کے محاصرے کا شکار حرستا سے نکل جائیں گے۔

احرار الشام کے ترجمان منطہر فارس نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس ڈیل کے تحت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجو ادلب کی جانب چلے جائیں گے اور ان کا جمعرات سے انخلا شروع ہوگا۔جو لوگ اس قصبے ہی میں رہنے کا فیصلہ کریں گے،شامی حکومت ان کی سکیورٹی کےا نتظامات کرے گی۔شام کے ملٹری میڈیا سنٹر کے مطابق کل ڈیڑھ ہزار مسلح باغیوں اور چھے ہزار شہریوں کوحرستا سے ادلب منتقل کیا جائے گا۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا مشرقی الغوطہ پر دوبارہ کنٹرول ان کی ایک بڑی فتح ہوگا اور یہ 2016ء میں حلب کے مشرقی حصے سے انخلا کے بعد باغیوں کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہو گا۔ شامی صدر کو باغیوں کے خلاف جنگ میں یہ تمام فتوحات روس کی فضائی مدد اور ایران کی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کی بدولت ملی ہیں۔

بشارالاسد نے گذشتہ اتوار کو مشرقی الغوطہ میں حال ہی میں قبضے میں لیے گئے ایک علاقے کا دورہ کیا تھا ۔ان کا اس طرح منظرعام پر آنا باغیوں کے خلاف لڑائی میں ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا بھی مظہر تھا۔

شامی فوج نے 18 فروری کو مشرقی الغوطہ پر دوبارہ قبضے کے لیے زمینی کارروائی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔اس کے بعد سے اس نے الغوطہ الشرقیہ کے 70 فی صد علاقوں کا باغیوں سے کنٹرول واپس لے لیا ہے۔شامی رصد گاہ کے مطابق شامی اور روسی طیاروں کے فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شامی فوج کی اس کارروائی کے بعد سے مشرقی الغوطہ سے اب تک 45 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔اس سے پہلے اس علاقے میں اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق چار لاکھ افراد مقیم تھے۔