.

ایران دہشت گردی کا ذریعہ ہے، 1979ء کے بعد ہم نے بھی اس کو جھیلا: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے باور کرایا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب نے انسداد دہشت گردی پر برسوں تک کام کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ سکیورٹی اور عسکری تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

جعمرات کے روز واشنگٹن میں Brookings انسٹی ٹیوٹ میں اپنے خطاب میں الجبیر نے کہا کہ اس وقت ہمارے خطّے کو بالخصوص شام اور عراق میں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے اور یمن میں بھی آئینی حکومت کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ایران کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ان کے ملک نے تین دہائیوں تک ایران کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا، تاہم اس نے موت اور تباہی کا کھیل کھیلنے کے ذریعے جواب دیا۔ ایران کے ساتھ مسائل کا آغاز 1979ء سے ہوا"۔

الجبیر نے مزید کہا کہ " 1979ء میں خمینی کے انقلاب کے بعد سے ہی ہم تہران کی مداخلتوں کے مسئلے سے دوچار ہوئے۔ ایران نے ارادہ کیا کہ وہ تمام شیعوں کا ہیرو بن جائے جو کہ ناقابل قبول امر ہے۔ گویا کہ ویٹی کن یہ کہنے لگے کہ کسی بھی قومیت یا شہریت کا احترام کیے بغیر وہ دنیا بھر میں ہر کیتھولک کا ذمّے دار بن رہا ہے۔ ایران کا آئین انقلاب کو بیرون ملک پھیلانے پر زور دیتا ہے اور اس امر کو کوئی ملک بھی قبول نہیں کر سکتا"۔

جوہری معاہدے کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ یہ نقائص کے سبب عیب دار ہے اور اس سے ایران کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ "اگر واشنگٹن جوہری معاہدے سے دست بردار ہو گیا تو ہمارے پاس دیگر آپشنز ہیں"۔

شام کے حوالے سے عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک حقیقی المیہ ہے۔ اس المیے نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ "شام کا حل سیاسی طور پر ہونا چاہیے۔ تاہم ایرانی رسوخ اور شیعہ ملیشیاؤں کی موجودگی سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے"۔

یمن کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ یمن میں جنگ سعودی عرب کا انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ تو مملکت پر مسلط کی گئی۔ انہوں نے باور کرایا کہ یمن کا بحران سیاسی راستے کے سوا حل نہیں ہو سکتا۔ الجبیر نے انکشاف کیا کہ یمن کی تعمیر نو کے واسطے 10 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جنگ کے ختم ہوتے ہی تعمیر نو کا کام شروع ہو جائے گا۔