.

لبنان: حزب اللہ کا مخالف شیعہ انتخابی امیدوار زیرِ حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سکیورٹی فورسز نے جمعرات کے روز شیخ عباس الجوہری کو حراست میں لے لیا۔ الجوہری بعلبک الہرمل کے انتخابی حلقے میں شیعہ نشست کے لیے حزب اللہ کا مخالف امیدوار ہے۔

لبنان میں سکیورٹی کے جنرل ڈائریکٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک انویسٹی گیشن جج نے منشیات سے متعلق جرم کے حوالے سے 21 فروری 2018ء کو الجوہری کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ اس پر عمل درامد کرتے ہوئے اسے سرکاری استغاثہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

دوسری جانب شیخ عباس الجوہری کے میڈیا بیورو نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پانچ برس قبل حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسین الموسوی کے بھائی نے بعلبک میں 8 ماہ کے لیے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا تھا۔ الموسوی سے قبل عباس الجوہری بھی اسی اپارٹمنٹ میں کرائے پر رہ چکا تھا۔ الموسوی کے مذکورہ اپارٹمنٹ چھوڑ جانے کے بعد وہاں سے کیپٹاگون (منشیات) کی مقدار برآمد ہوئی۔ اس وقت الموسوی اور الجوہری دونوں کو تحقیقات کے لیے پیش کیا گیا۔ بعد ازاں واضح ہوا کہ حزب اللہ نے یہ کھیل شیخ عباس الجوہری کو ملوث کرنے کے لیے کھیلا تھا کیوں کہ وہ شام میں حزب اللہ کی مداخلت اور لڑائی کا مخالف ہے۔ البتہ الجوہری کو اس کھیل سے باعزت بری کر دیا گیا۔

میڈیا بیورو کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پانچ برس بعد اب ایک مرتبہ پھر شیخ عباس الجوہری کو اسی معاملے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ اقدام حزب اللہ کے دباؤ پر کیا گیا ہے تا کہ شیخ الجوہری کو 2018ء میں پارلیمنٹ کے لیے ہونے والی سیاسی دوڑ سے باہر کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کئی روز قبل اپنی جماعت کے مخالف شیعہ امیدواروں پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ داعش اور جبہۃ النصرہ تنظیموں کے حامی ہیں۔