الغوطہ الشرقیہ : دوما کو بشار کے قبضے میں لانے کے لیے نیا روسی سمجھوتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دوما شہر میں عسکری کارروائیوں کے حتمی طور پر خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے واسطے جیش الاسلام تنظیم اور روس کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ المرصد نے باور کرایا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں القلمون کے علاقے کو جیش الاسلام کے جنگجوؤں کے خروج کے لیے ایک نمایاں ترین آپشن کے طور پر رکھا ہے۔

اس دوران جیش الاسلام کی جانب سے دوما شہر کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کی، شہر میں ہزاروں مریضوں کے انخلاء کے بدلے رہائی پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ الغوطہ الشرقیہ کے بعض حصّوں میں فائر بندی کے لیے ابتدائی معاہدے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مقامی فریق اور روس کے درمیان مذاکرات کے حتمی سیشن کا انعقاد ہو گا۔ اس کا مقصد شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے والا حل تلاش کرنا، حالیہ درپیش مصائب کا سلسلہ رکوانا اور جنگ اور بم باری کو روکنا ہے۔

اس فیصلے کا سبب الغوطہ کے قصبوں پر شامی حکومت اور روس کی بم باری میں شدت کا آ جانا ہے۔

یاد رہے کہ الغوطہ میں انسانی صورت حال ابھی تک "آفت" کی صورت اختیار کی ہوئی ہے۔ غذائی اور طبی امداد کا سامان ختم ہو جانے کے ساتھ رہائش کے لیے غیر موزوں مقامات پر شہریوں کے ہجوم کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیل گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں