حوثی ملیشیا نے اس طرح میدی کا مچھلی بازار تباہ کر ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صوبے حجہ کے ضلعے میدی میں واقع مچھلی بازار ملک میں مختلف قسم کی اعلی کوالٹی مچھلیوں کی خرید و فروخت کا ایک اہم ترین مرکز شمار کیا جاتا ہے۔

یمنی حکومت کی جانب سے مچھیروں کو اس منڈی میں داخل ہونے اور سمندری پیداوار کو بڑھانے کے لیے سراہا گیا۔ تاہم یہ بازار بھی دیگر اہم بازروں اور سرمایہ کاری کے مراکز کی طرح 2014ء میں حوثی ملیشیا کے قبضے کے بعد تباہی سے دوچار ہو گیا۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے اس مچھلی بازار کو بند کیے جانے کے نتیجے میں سیکڑوں مچھیروں کا روزگار ختم ہو گیا۔ یہ لوگ اس وقت کام کے بغیر جی رہے ہیں جس سے ان کی معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ الحدیدہ کی بندرگاہ اور اس کے زیر انتظام ساحلوں پر حوثیوں کا قبضہ جاری ہے۔

یمن میں نیلامی کے ذریعے مچھلیوں کی فروخت اور پڑوسی ممالک کے لیے برآمدات کی صورت میں روزانہ 40 ہزار ڈالر سے زیادہ کی بِکری ہوا کرتی تھی۔ تاہم پھر سمندری پیداوار کا تناسب صفر ہو گیا۔

اس دوران 1500 سے زیادہ ورکروں کو حراست میں لیا گیا جو اب بے روز گار ہو چکے ہیں۔ تقریبا 200 مچھیروں کو جبری طور پر ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا۔

باغی ملیشیا کی جانب سے ساحلوں اور سمندی پانی کی بندش کے ساتھ ہی جہاز رانی اور سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی موقوف ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں