شامی باغی گروپ مشرقی الغوطہ میں اپنے آخری دو میں سے ایک علاقے سے انخلا کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شامی فوج کے محاصرے کا شکار مشرقی الغوطہ میں واقع ایک قصبے عربین سے باغی گروپ فیلق الرحمان کے جنگجو فضائی حملے روکنے کے بدلے میں انخلا پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

شامی فوج اور اس کے اتحادی روس نے گذشتہ پانچ ہفتے سے مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔فیلق الرحمان نے ان فضائی حملوں میں شامی شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے زیر قبضہ رہ جانے والے آخری دو میں سے ایک قصبے عربین کو بھی خالی کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ہفتے کے روز عسکری ذرائع کے حوالے سے بتا یا ہے کہ مشرقی الغوطہ سے اب تک ساڑھے دس ہزار شہریوں کا انخلا ہوا ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اس سمجھوتے کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ شہریوں کو بڑی تعداد میں ایک پناہ گاہ کے باہر دیکھا گیا ہے ورنہ وہ مسلسل فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے زیر زمین تہ خانوں یا مورچوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے اور وہ کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بھی باہر نکلنے سے گریز کررہے تھے۔

اس سمجھوتے کے تحت عربین کے علاوہ زملکا سے بھی باغی جنگجو ،ان کے خاندان اور شہری اپنا گھربار چھوڑ کر شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب جارہے ہیں اور وہاں ضعیف العمر معذورین اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے ایمبولینس گاڑیاں کھڑی دیکھی گئی ہیں۔

اس سمجھوتے میں زملکا ، عربین کے علاوہ عین طرما اور جوبر کے بعض حصے بھی شامل ہیں اور ان سے بھی فیلق الرحمان کے جنگجوؤں ، ان کے خاندانوں اور شہریوں کا انخلا ہوگا۔ اس سے قبل شامی حکومت کا احرار الشام گروپ سے ایسا ہی ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت باغی جنگجوؤں نے جمعرات اور جمعہ کو ایک اور قصبے حرستا کو خالی کردیا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گذشتہ دو روز میں 14 سو جنگجو ؤں سمیت ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ادلب کی جانب چلے گئے ہیں ۔

شامی فوج نے 18 فروری کو مشرقی الغوطہ پر دوبارہ قبضے کے لیے بیک وقت زمینی کارروائی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔اس کے بعد سے اس نے الغوطہ الشرقیہ کے 90 فی صد علاقوں کا باغیوں سے کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ شامی فوج اور روسی طیاروں کے فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مشرقی الغوطہ کو مفتوح کرنے کے لیے بھی شامی حکومت نے وہی جنگی حربہ استعمال کیا ہے جو وہ ستمبر 2015ء میں روس کی اس جنگ میں مداخلت کے بعد سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔اس کے تحت شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں ایسے علاقے کی پہلی ناکا بندی کرتی ہیں، مکینوں کا قحط سے دوچار کیا جاتا ہے، ان پر فضائی بمباری کی جاتی ہے، پھر زمینی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور سمجھوتے کے بعد باغیوں اور ان کے خاندانوں کو محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔اس طرح شامی فوج اپنے اتحادیوں کی مدد سے شہریوں کے خلاف انسانیت سوز حربے آزما کر دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ پر دوبارہ مکمل قبضے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں