فرانس : دہشت گرد حملے میں یرغمال بننے والا بہادر پولیس افسر چل بسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز جنوبی شہر Trèbes میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والا پولیس افسر چل بسا۔ داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد نے شہر کی ایک سپر مارکیٹ میں داخل ہو کر وہاں کئی لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔ سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔ بعد ازاں ایک زخمی بھی ملا جو لگتا ہے کہ حملہ آور رضوان لقدیم کے ساتھ تھا۔

پولیس نے بتایا کہ مرنے والے افسر کرنل Arnaud Beltrame نے یرغمال بنائے جانے والے افراد کی جگہ لے لی تھی۔ فرانسیسی میڈیا نے دلیری اور بہادری دکھانے پر 45 سالہ افسر کو خراج تحسین پیش کیا۔

حملہ آور کی جانب سے دو یرغمالیوں کو قتل کر دیے جانے کے بعد مذکورہ پولیس افسر نے حملہ آور کو پیش کش کی کہ وہ یرغمالیوں میں شامل ایک خاتون کو آزاد کر دے اور اس کے بدلے اس پولیس افسر کو یرغمال بنا لے۔ رضوان لقدیم نے اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ بعد ازاں صورت حال میں تیزی کے ساتھ ڈرامائی تبدیلی آئی۔ رضوان نے اعلان کیا کہ اگر فرانسیسی حکام نے پیرس حملوں (سال 2015ء میں ہونے والے ان حملوں میں 130 افراد مارے گئے تھے) کے آخری حملہ آور صلاح عبدالسلام کو آزاد نہ کیا تو وہ تمام یرغمالیوں کو ہلاک کر دے گا۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرارڈ کولوم نے انکشاف کیا کہ "بہادر پولیس افسر نے اپنا موبائل میز پر کھلا چھوڑ دیا تھا۔ لہذا جب سکیورٹی اہل کاروں نے کلپس کو سنا تو وہ داخل ہو گئے اور حملہ آور پر فائرنگ کر دی"۔ تاہم اس سے پہلے حملہ آور رضوان لقدیم یرغمال پولیس افسر کے جسم میں کئی گولیاں مار چکا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں