میوزیم پر یلغار، حوثی ملکی تاریخ مسخ کرنےکے درپے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نواز حوثی ملیشیا نے یمن کے صدر مقام صنعاء میں قائم تاریخی ملٹری اسٹیڈیم پراپنی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے عجائب گھرمیں موجود مقتول سابق صدرعلی عبداللہ صالح اور دیگر سابق صدور سے نسبت رکھنے والی تاریخی یاد گاریں ہٹانے کے بعد وہاں پر حوثیوں اور ان کے متعلقات کو رکھنا شروع کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صنعاء کے وسط میں واقع آزادی اسٹیڈیم میں قائم ملٹری عجائب گھر میں موجود سابق صدر کے نام ونشان کو مٹانے کی باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میوزیم میں گذشتہ ایک سو سالہ تاریخی یاد گاروں کو بھی مٹایا جا رہا ہے۔ میوزیم میں موجود تاریخی اور نایاب دستاویزات اور یادگاری اشیاء چوری کی جا رہی ہیں۔ پرانے دور کے برتن، جنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور فوج سے متعلق یاد گاری سامان کی لوٹ مار جاری ہے

یمن کی جنرل پیپلز کانگریس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے سابق صدر علی صالح کی جمع کردہ اشیاء کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ ان میں سابق صدر کے اپنے استعمال میں رہنے والی اشیاء اور ملبوسات بھی شامل تھے مگر حوثیوں نے ان کی جگہ حوثی تحریک کے بانی حسین بدرالدین الحوثی سے نسبت رکھنے والی اشیاء رکھ دی ہیں۔

پیپلزکانگریس نے حوثیوں کے اس اقدام کو ضد،نفرت اور اخلاقی انحطاط کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ میوزیم صنعاء کے اسٹیڈیم کے قریب سنہ 1984ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں ماضی میں ہونے والی یمنی جنگوں کی یاد گاریں، فوج سے متعلق اشیا اور ماضی میں جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور آلات کو بہ طور یادگاررکھا گیا تھا۔

میوزیم کے لیے منتخب عمارت بھی اپنی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ عمارت عثمانی دور میں 1902ء میں تعمیر کی گئی۔ اس وقت اسے ایک اسکول کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اندرونی اور بیرونی گیلریوں علاوہ اس میں 12 بڑے ہال بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں