.

بحرین میں "سائبر انارکی" کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں وزیر داخلہ راشد آل خلیفہ نے "غیر مسبوق نوعیت کی سائبر انارکی" سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت اس رجحان کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے قوانین لاگو کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اتوار کے روز بحرین کے روزنامے "الايام" میں شائع ہونے والے بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ "ہم سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس کا پتہ چلا رہے ہیں جو ملک میں سائبر انارکی پھیلانے کا سبب ہیں۔ خواہ یہ افراد کے ہوں یا پھر اداروں کے"۔

راشد آل خلیفہ کے مطابق "ابھی تک کیے گئے اقدامات سے بعض ایسے عناصر کا تعین ہو گیا جو یہ اکاؤنٹس چلا رہے ہیں جب کہ بعض دیگر کی کڑی نگرانی جاری ہے اور ہم بقیہ اکاؤنٹس چلانے والوں سے بھی اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر اس کے لیے ںئے قوانین کی بھی ضرورت پڑی تو ان کو بنایا جائے گا۔ تا کہ معاشرے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے سے روکا جا سکے"۔

بحرینی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ "سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ پہلے بنائے جانے والے بعض اکاؤنٹس نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہ دعوی کر ڈالا کہ انہیں بحرین کے شاہی دیوان سے چلایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ ضرر رساں ویب سائٹوں کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں اور ان کا شاہی دیوان یا بحرین میں کسی بھی دوسرے سرکاری ادارے سے کوئی تعلق نہیں"۔