.

جنوبی غوطہ سے روس کی زیرنگرانی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کا انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کے محاصرے کا شکار مشرقی الغوطہ کے جنوبی علاقے سے روس کی زیرنگرانی جنگجو گروپ ’فیلق الرحمان‘ کے جنگجواور ان کے خاندانوں نے کل ہفتے کو علاقے سے انخلاء شروع کردیا ہے۔

شامی فوج اور اس کے اتحادی روس نے گذشتہ پانچ ہفتے سے مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔فیلق الرحمان نے ان فضائی حملوں میں شامی شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے زیر قبضہ رہ جانے والے آخری دو میں سے ایک قصبے عربین کو بھی خالی کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ہفتے کے روز عسکری ذرائع کے حوالے سے بتا یا ہے کہ مشرقی الغوطہ سے اب تک ساڑھے دس ہزار شہریوں کا انخلا ہوا ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اس سمجھوتے کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ شہریوں کو بڑی تعداد میں ایک پناہ گاہ کے باہر دیکھا گیا ہے ورنہ وہ مسلسل فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے زیر زمین تہ خانوں یا مورچوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے اور وہ کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بھی باہر نکلنے سے گریز کررہے تھے۔

اس سمجھوتے کے تحت عربین کے علاوہ زملکا سے بھی باغی جنگجو ،ان کے خاندان اور شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب جارہے ہیں اور وہاں ضعیف العمر معذورین اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے ایمبولینس گاڑیاں کھڑی دیکھی گئی ہیں۔

اس سمجھوتے میں زملکا ، عربین کے علاوہ عین طرما اور جوبر کے بعض حصے بھی شامل ہیں اور ان سے بھی فیلق الرحمان کے جنگجوؤں ، ان کے خاندانوں اور شہریوں کا انخلا ہوگا۔ اس سے قبل شامی حکومت کا احرار الشام گروپ سے ایسا ہی ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت باغی جنگجوؤں نے جمعرات اور جمعہ کو ایک اور قصبے حرستا کو خالی کردیا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گذشتہ دو روز میں 14 سو جنگجو ؤں سمیت ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ادلب کی جانب چلے گئے ہیں ۔

خبر رساں ادارے’سانا‘ کے مطابق عربین سے 17 بسوں کا ایک قافلہ 981 مسلح جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو لے جر واںسے روانہ ہوگیا ہے۔دوسرے مرحلے میں مجموعی طورپر قریبا سات ہزار افراد کے انخلاء کا امکان ہے۔

روس کی ملٹری پولیس کی تعیناتی

دوسری جانب جنگجو گروپ’فیلق الرحمان‘ کے ترجمان وائل علوان ن ہفتے کے روز بتایا کہ روس اور ان کی تنظیم کے درمیان طے پائے معاہدے کےتحت مشرقی الغوطہ سے زخمیوں کا انخلاء اور روسی اسپتالوں میں زخمیوں کا اعلاج شامل ہے۔

الحدث چینل سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ روس اور فیلق الرحمان کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں سے انخلاء کے موقع پر شامی فوج کے بجائے روسی ملٹری پولیس تعینات کی جائے گی۔

فیلق الرحمان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک بیان میں بھی روس کے ساتھ انخلاء کے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت روسی ملٹری پولیس کی زیرنگرانی تمام جنگجوؤں کا انخلاء، ہلکے ہتھیارساتھ رکھنے کی اجازت، جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں دونوں کو نکلنے کی اجازت اور دیگر امورشامل ہیں۔