.

حوثی کمانڈر آپس میں لڑ پڑے ، کئی باغی ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے ضالع کے شہر دمت میں اتوار کے روز حوثی ملیشیا کی قیادت کے درمیان مسلح جھڑپیں بھڑک اٹھیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق 4 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں حوثی کمانڈر بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق مسلح جھڑپیں دو حوثی کمانڈروں محمد صالح الحدی اور ابو سعد رئيس کے گروپوں کے درمیان ہوئیں۔ جھڑپوں کی بنیاد دونوں کمانڈروں کے بیچ تیل کی مصنوعات کے اسٹیشن (تیل کی مصنوعات اور گیس کے لیے حوثی ملیشیا کی بلیک مارکیٹ) کے حوالے سے جنم لینے والا اختلاف تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے چار افراد میں رعد الحدی اور حوثی کمانڈر ابو سعد رئیس کے دو ساتھی شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حوثی کمانڈروں کے بیچ مسلح جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ اس سے پہلے باغیوں کے زیر قبضہ مختلف علاقوں میں اسی طرح کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان واقعات کی بنیاد لوٹا ہوا مال ، سامان اور بھتّہ ہوتا تھا۔ ان لڑائیوں میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں کمانڈرز بھی شامل ہیں۔

حوثی باغیوں کی قیادت کے بیچ تنازعات اب اعلانیہ طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔