.

شام : جیش الاسلام کا غوطہ شرقیہ سے کوچ سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے غوطہ شرقیہ میں جیش الاسلام تنظیم کے کمانڈر عصام بویضانی نے غوطہ سے انخلاء کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کے مسلح ارکان علاقے میں باقی رہیں گے۔ بویضانی نے شام کے جنوب میں موجود شامی گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غوطہ کی نصرت کے لیے حرکت میں آئیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی اسپٹنک نے عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انخلاء کے سمجھوتوں کے حوالے سے شامی حکومت اور روس کے دوما میں ذمّے داران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اس غالب گمان کا اظہار کیا ہے کہ دوما میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں اسے "مصالحت" کا علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے تا کہ وہاں شامی حکومت کے اداروں کی واپسی ہو سکے۔

ادھر ہفتے کے روز غوطہ میں فیلق الرحمن تنظیم کے زیر کنٹرول علاقے سے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے انخلاء کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا۔

خبر رساں ادارے ’سانا‘ کے مطابق ہفتے کی شب پہلی کھیپ میں عربین سے 17 بسوں کا ایک قافلہ 981 مسلح جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو لے کر ادلب کی جانب روانہ ہو گیا۔ ان افراد میں زملکا، عربین کے علاوہ عین طرما اور جوبر کے بعض حصے کے لوگ بھی شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں مجموعی طورپر قریبا سات ہزار افراد کے انخلاء کا امکان ہے۔

دوسری جانب جنگجو تنظیم ’فیلق الرحمان‘ کے ترجمان وائل علوان نے ہفتے کے روز بتایا کہ روس اور ان کی تنظیم کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت مشرقی غوطہ سے زخمیوں کا انخلاء اور روسی اسپتالوں میں زخمیوں کا علاج شامل ہے۔

الحدث چینل سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ روس اور فیلق الرحمان کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں سے انخلاء کے موقع پر شامی فوج کے بجائے روسی ملٹری پولیس تعینات کی جائے گی۔