.

عفرین تُرکوں کے کنٹرول میں ، ایردوآن نے قبضے کا الزام مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج کے ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ ترک فوج اور اس کے حلیف مسلح شامی گروپوں نے شام کے شمال مغرب میں واقع علاقے عفرین پر اپنا مکمل کنٹرول نافذ کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امدادی کارکنان علاقے کی آبادی میں خوراک تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ترکی کی فوج اور مسلح شامی گروپوں نے گزشتہ اتوار کے روز عفرین کے مرکزی شہر پر حملہ کیا تھا۔ اس سے قبل علاقے سے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو نکالنے کے لیے آٹھ ہفتوں تک عسکری آپریشن جاری رہا۔ انقرہ حکومت مذکورہ پیپلز یونٹس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتی ہے۔

ترک عسکری ذریعے نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ عفرین کے علاقے میں مکمل کنٹرول کو یقینی بنا لیا گیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے تا کہ مقامی آبادی محفوظ طور پر اپنے گھروں کو لوٹ سکے۔

ادھر عفرین میں لوگوں نے صفیں بنا کر ہلال احمر کی جانب سے تقسیم کیا جانے والا گرم کھانا حاصل کیا۔ ترک ہلالِ احمر کے سربراہ کریم کینیک نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ہم مختصر اور درمیانی مدت میں زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے موبائل باورچی خانے اور عملہ متحرک ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ ہم خواتین اور بچوں کی واپسی چاہتے ہیں"۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعے کے روز فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں عفرین میں اپنے ملک کی مہم جوئی پر تنقید کو مسترد کر دیا۔

ترکی کے مغربی حلیفوں میں فرانس ان نمایاں ترین ممالک میں سے تھا جنہوں نے ترکی کے اس فوجی آپریشن پر تنقید کی۔ فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی کی سرحد کی سکیورٹی کے حوالے سے موجود اندیشے کسی طور بھی حملے اور قبضے کا جواز نہیں۔