.

ولی عہد کا دورہ بوسٹن، جامعات کے سربراہان سے ملاقاتیں،معاہدوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے تاریخی دورہ امریکا کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات سے ملاقاتیں اور باہمی معاہدوں کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتے کو ولی عہد نیویارک روانگی سے قبل مختصر دورے پر بوسٹن گئے جہاں انہوں نے چند گھٹےکے قیام کے دوران امریکی جامعات کے سربراہان سے ملاقاتیں کی۔ اس کے علاوہ ولی عہد اور بوسٹن میں مختلف کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔

بوسٹن میں سعودی ولی عہد کی زیرنگرانی امریکی اور سعودی جامعات کے درمیان معاہدوں اور دوطرفہ تعاون کی یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

اس موقعے پرامریکی کمپنی ’ایم آئی ٹی‘ اور سعودی آئل کمپنی ارامکو کےدرمیان 4معاہدوں کی منظوری دی گئی۔ ساپک اور شاہ عبداللہ سائنس ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور شاہ عبدالعزیز سائنس وٹیکنالوجی یونیورسٹی کے درمیان بھی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

بوسٹن کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد نے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور تخلیقی طریقے سے ٹیکنالوجی سے تیارکردہ مصنوعی ذہانت کے آلات، بائیو میکاٹرونکس لیبارٹری، میسا چوسٹس ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ اور آئی ایم واٹسن ہیلتھ سینٹر کا بھی وزٹ کیا۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان گزشتہ منگل کو امریکا کے تین ہفتے پر محیط دورے کے دوران نیویارک پہنچے تھے۔ وہ اس دورے میں اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکومتی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد امریکا اور کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ اور وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔