.

ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی لابی کے سربراہ کی "فوجی حکومت" کی تجویز !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں طاقت ور ایرانی لابیوں میں شمار ہونے والی American-Iranian Council کے سربراہ ہوشنگ امیر احمدی نے تجویز دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران میں پاسداران انقلاب کے ذریعے ایک عسکری حکومت تشکیل دی جائے۔

امریکا کی روٹجرز یونی ورسٹی کے پروفیسر امیر احمدی کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی کی حکومت امریکی دھمکیوں کے مقابل محاذ آرائی نہیں کر سکتی اور یورپی ممالک بھی روحانی کی حکومت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اسے ایک کمزور حکومت سمجھتے ہیں۔

جمعے کے روز ایرانی ویب سائٹ "انتخاب" پر شائع ہونے والے مضمون میں امیر احمدی نے کہا کہ ""جان بولٹن کا امریکی قومی سلامتی کونسل کا مشیر اور ڈائریکٹر مقرر کیا جانا یہ امر ایران پر فوجی حملے کے امکان کو بڑھا رہا ہے۔ روحانی کی حکومت سیاسی اور سفارتی میدان میں ٹرمپ انتظامیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی لہذا اسے دور کر دینا چاہیے"۔

امیر احمدی کا مزید کہنا تھا کہ "بولٹن امریکی صدر سے یہ چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدے سے نکل کر ایرانیوں پر شدید پابندیاں عائد کی جائیں اور ایران کے بحری اور فضائی راستوں کا محاصرہ کر لیا جائے۔ اس کے بعد پھر ایرانی میزائل پروگرام کو روکا جائے اور اسی طرح خطے بالخصوص لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایرانی پاسداران انقلاب کی مداخلتوں کا سلسلہ ختم کیا جائے"۔

امیر احمدی کے نزدیک بولٹن اور امریکا کے نئے وزیر خارجہ مائیک پومپیو آخرکار ایرانی نظام کا سقوط چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ کچھ بھی کر گزریں گے، اس میں ایرانی اپوزیشن کے لیے ہر طرح کی سپورٹ پیش کرنا شامل ہے۔

ایرانی لوبی کے سربراہ نے اپنے مضمون کے اختتام پر تجویز پیش کی کہ حسن روحانی کی حکومت کو ختم کر دیا جائے کیوں کہ وہ امریکا اور ایرانی اپوزیشن کی جانب سے اپنائی گئی "نظام کے سقوط" کی پالیسی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امیر احمدی نے ایک عسکری حکومت تشکیل دینے کی نصیحت کی جو خارجہ پالیسی ، سکیورٹی ، دفاع اور یہاں تک کہ معیشت میں بھی مختار کُل ہو تا کہ خطرات کا سامنا کیا جا سکے"۔

یاد رہے کہ امریکی حلقوں کی جانب سےAmerican-Iranian Council یعنی AIC پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ان طاقت ور ترین لوبیوں میں سے ہے جو پاسداران انقلاب اور حزب اللہ جیسی دیگر دہشت گرد ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر مغربی دنیا میں ایرانی نظام کی اچھی تصویر یش کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔