.

ٹرمپ کی جانب سے "فلسطینیوں کی امداد" کی کٹوتی ، اسرائیلی وزیراعظم کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے اتوار کے روز امریکی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے قانون کو سراہا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کے لیے مالی امداد کا کچھ حصّہ روک دیا گیا۔ یہ اقدام اُن فلسطینیوں کے خاندانوں کو ادا کیے جانے والے زر تلافی کے سبب عمل میں آیا جو اسرائیل کے خلاف لڑائی میں جاں بحق ہو گئے یا قید کر لیے گئے۔

مذکورہ قانون کو ایک امریکی طالب علم "ٹیلر فورس" کے نام منسوب کیا گیا ہے جو مارچ 2016ء میں ایک فلسطینی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ ٹیلر فورس قانون پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے۔

نیتنیاہو نے اس قانون کو امریکا کی جانب سے ایک طاقت ور اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "فلسطینی اتھارٹی کے پاس جانے والی رقم میں کروڑوں ڈالروں کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی اس رقم کو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی میں خرچ کر رہی تھی"۔

دوسری جانب فسلطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے امریکی قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایسی فضا قائم نہیں ہونے دے گا جس سے امن کا راستہ آسان ہو سکے"۔