.

سعودیہ نے’ہیلتھ سیکٹر‘ کےلیے 3 ارب ڈالر کے معاہدے کیوں کیے؟

مقامی مارکیٹ میں صحت کے شعبے میں 50ہزار ملازمتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ مئی میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ’العربیہ‘ چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’آپ کامیاب ممالک کا جائزہ لیں تو ان کے ہاں صحت کا مخصوص شعبہ موجود ہے۔ چاہے وہ اسپیشل سیکٹر ہو یا غیر منافع بخش شعبہ ہو، تمام اسپتال ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں‘۔

ان کے اس بیان کو گذرے ایک سال نہیں ہوا کہ سعودی عرب میں صحت کے شعبے میں غیرمعمولی تغیرات دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی کمپنیاں سعودی عرب میں صحت کے شعبے میں شہریوں کو بہتر سروسز فراہم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ ضروری ٹیکنیکل بنیادوں پر نیا ڈھانچہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ امریکا کے عملی نتائج کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنے دورہ امریکا کے دوران صحت کے شعبے میں تین ارب ڈالر کے معاہدے کیے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ مقامی صنعت اور طبی سروسز کے لیے مختص ہوگا۔ ان میں سے بیشتر معاہدوں کی کامیابی کا تناسب 15 فی صد تک پہنچ چکا ہے۔

50 ہزار ملازمتیں

سعودی عرب کی قومی صحت کمیٹی کے رکن عمر العجاجی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے لیے معاہدوں کی منظوری ’اہم قدم‘ ہے۔ ان معاہدوں سے نہ صرف مملکت میں صحت کے شعبے میں سروسز کا معیار مزید بہتر ہوگا بلکہ غیرملکی ماہرین کو سعودی عرب میں کام کا موقع دینے کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں 50 ہزار ملازمتیں بھی تخلیق کی جاسکیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں العجاجنی نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کی پرائیویٹائزیشن پروگرام میں اہم پیش رفت ہوچکی ہے۔ ویژن 2030ء کے مطابق صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے خصوصی ایجنسی قائم کی گئی ہے۔ حکومتی اسپتالوں کو ان کی انشورنس کا کچھ حصہ ادا کیا جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ سعودی عرب میں اقتصادی اصلاحات تحریک کا حصہ ہے اور اصلاحات اور ترقی کا یہ سفر اپنے اہداف کے مطابق جاری ہے۔ سنہ 2020ء تک اسپیشل سیکٹر میں صحت کے شعبے پر اخراجات کا حجم 35 فی صد بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات

سعودی وزارت صحت اور امریکی کمپنی "Medtronic" کے درمیان 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں سعودی عرب میں موٹاپے کی روک تھام کے لیے طبی مراکز اور شوگر کے علاج اور امراض قلب کے اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سعودی وزارت صحت اور امریکی کمپنی ’جنرل الیکٹرک‘ کے درمیان ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شراکت متوقع ہے۔ اس ڈیل کے تحت شاہ فیصل اسپتال میں ریڈیو گرافک سینٹر کے مینیجمنٹ ڈویلپمنٹ شامل ہے۔ توقع ہے کہ 2020ء میں اس میں 185 نئی ملازمتیں بھی نکلیں گی۔

سعودی عرب کی انڈسٹریل سوسائٹی اور جنرل الیکٹرک کے درمیان مملکت میں حیاتیاتی ادویات سازی اور وزارت صحت کے ماتحت 244 اسپتالوں میں سروسز ڈویلپمنٹ، 2020ء تک 80 کروڑ 25 لاکھ کی سرمایہ کاری اور 500 نئی ملازمتوں کی تخلیق کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی العلینا کمپنی اور امریکی فرم ’ Select Medical‘ کے درمیان بحالی اسپتالوں کی ایڈمنسٹریشن آپریٹنگ پر 30 کروڑ 70 لاکھ کی ڈیل طے پائے۔ اس ڈیل میں بھی 500 نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

شاہ فیصل اسپتال اور جنرل الیکٹرک کے درمیان جدہ میں ایک نیا طبی مرکز قائم کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ اس طبی مرکز میں جدید طبی ٹیکنالوجی اور دیگر سروسز کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا جس پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ مقامی مارکیٹ میں یہ ڈیل بھی سعودی شہریوں کے لیے 5000 ملازمتیں لائے گی۔

" KACST" اور جنرل الیکٹرک کے درمیان ’ایم او یو‘ پردستخط کیےگئے جس کا مقصد سعودی عرب میں بائیو میڈیکل ادویات کی تیاری کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔