.

عفرین: مختلف واقعات میں 11 مسلح کُرد اور 2 تُرک فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوبی صوبے ہاتے میں ترک فوج نے پیر کی شب شام کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے ہاتے میں 11 مسلح کردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات صوبے کے گورنر کے دفتر کی جانب سے بتائی گئی۔ ادھر ترکی کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شام کے علاقے عفرین میں ایک دھماکے کے نتیجے میں اس کے دو اہل کار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ہاتے کے گورنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ترکی کی سکیورٹی فورسز کو بحیرہ روم کے نزدیک واقع صوبے ہاتے کے علاقے ارسوز میں کرد مسلح عناصر کی موجودگی کا معلوم ہوا۔ اس پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے ان افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کی فوج نے 6 مسلح کردوں کی لاشوں ، ایم – 16 رائفلوں ، راکٹ گرینیڈز اور گولہ بارود کو قبضے میں لے لیا۔

ترکی 1984ء سے کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح عناصر کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔

ترکی کی فوج اور اس کے حلیف شامی گروپوں نے جنوری میں شام کے علاقے عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف عسکری آپریشن شروع کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے فوجی ذرائع نے عفرین پر مکمل طور پر ترکی کی فوج کے کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔ عفرین کا علاقہ سرحد پار ترک صوبے ہاتے کے مقابل واقع ہے۔

دوسری جانب ترکی کی مسلح افواج نے بتایا ہے کہ پیر کے روز عفرین کے علاقے میں گشت کے دوران دھماکا خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں دو ترک فوجی ہلاک ہو گئے۔