.

قطر کا کارنامہ: سکیورٹی حکام کو مطلوب دہشت گرد میراتھن دوڑ میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ جمعرات کے روز قطر کی وزارت داخلہ نے 19 ناموں پر مشتمل دہشت گردوں کی ایک فہرست جاری کی۔ اس فہرست میں شامل ایک نام نے ذرائع ابلاغ کو حیران کر ڈالا۔ جی ہاں "مبارک محمد بن سعد بن علی العجی" یہ وہ ہی نام ہے جو انسداد دہشت گردی کے داعی عرب ممالک "سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر" کی طرف سے 2017ء میں جاری دہشت گردوں کی فہرست میں پہلے ہی شامل تھا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ قطری وزارت داخلہ کی فہرست جاری ہونے کے بعد العجی نے دوحہ میں جمعے کے روز ہونے والی میراتھن دوڑ میں اعلانیہ طور پر شرکت کی۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ العجی آزادانہ طور پر سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں ٹوئیٹر اور انسٹا گرام پر بھی بھرپور انداز سے سرگرم رہا۔ اس نے انسٹاگرام پر میراتھن دوڑ سمیت دیگر اسپورٹس ایونٹس میں اپنی شرکت کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ العجی نے دوحہ میراتھن میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

اس طرح قطر کے حکام نے عالمی سکیورٹی کی تاریخ میں ایک ایسی مثال قائم کر دی جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔ ایک شخص کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی اسے میراتھن دوڑ میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔ وہ میراتھن دوڑ جس کی نگرانی قطری حکومت کے کھیلوں سے متعلق ادارے کر رہے تھے۔ یہ ہی نہیں بلکہ اس شخص کو وکٹری اسٹینڈ پر انعام سے بھی نوازا گیا جب کہ وہ سکیورٹی حکام کو مطلوب تھا!

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ العجی کی مختلف تصاویر مںظر عام پر آئی ہیں جن میں وہ کبھی ٹریک سوٹ میں ، کبھی قطر کے قومی لباس میں ، کبھی فوجی وردی میں اور کبھی القاعدہ کے جنگجوؤں جیسے لباس میں نظر آ رہا ہے۔ گویا کہ العجی کوئی عام انسان نہیں بلکہ اسٹیفن ہاکنگ کے طبیعیات کے نظریے کی تفسیر ہو گیا!

مبارک محمد العجی کون ہے؟

مبارک محمد العجی کو غیر سرکاری نیٹ ورکس کے ذریعے القاعدہ تنظیم کے لیے عطیات جمع کرنے پر مقرر کیا گیا۔ اس نے کویتی شہری حجاج العجمی کے ساتھ مل کر کام کیا۔ العجمی کو شام میں القاعدہ تنظیم کی سپورٹ کرنے پر اقوام متحدہ اور امریکا نے زیرِ پابندی افراد کی فہرست میں شامل کر لیا۔

سال 2013ء میں حجاج العجمی اور مبارک محمد العجی نے قطری عوام کے بیچ ایک مہم چلائی جس کا مقصد شام میں جنگجوؤں کے واسطے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے عطیات جمع کرنا تھا۔ سال 2015ء میں العجی کو کویت میں حراست میں لے لیا گیا اور اس سے عطیات جمع کرنے کی سرگرمیاں انجام دینے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد ازاں العجی کو ملک بدر کر کے قطر بھیج دیا گیا۔

سال 2013ء میں العجی نے العجمی کے ساتھ شام کا سفر کیا اور وہاں لڑائی میں شرکت کی۔ العجی نے شام میں القاعدہ تنظیم کو سپورٹ کیا جیسا کہ وہ ایک تصویر میں اسی لباس میں نظر آ رہا ہے جو تنظیم کے جنگجو پہنتے ہیں۔

قطر واپس آنے کے بعد العجی نے قطر کی مسلح افواج کے "نیشنل سروس پروگرام" میں شمولیت اختیار کی۔ سال 2015ء سے وہ دوحہ میں بچوں کے ایک تعلیمی مرکز میں بطور ذمّے دار اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس مرکز میں القاعدہ تنظیم کو سپورٹ کرنے والے کئی شدت پسندوں کے توسیعی لیکچروں کا انعقاد بھی کیا گیا جن میں وجدی غنیم اور حجاج العجمی شامل ہیں۔

انسٹاگرام پر مبارک العجی کے پیج پر ایک تصویر سے ظاہر ہو رہا ہے کہ 2017ء میں قطر کی راف فاؤنڈیشن نے عطیات جمع کرنے پر العجی کو اعزاز و اکرام سے بھی نوازا۔ واضح رہے کہ مذکورہ فاؤنڈیشن کا نام دہشت گرد شخصیات اور اداروں کی فہرست میں شامل ہے۔