.

یورپی وفد حوثیوں سے مل کر صدمے سے کیوں دوچار ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے انکشاف کیا ہے کہ حل ہی میں یورپی ملکوں کے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے دارالحکومت صنعاء کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نےایران نواز حوثی باغیوں سے بھی ملاقات کی۔ حوثی لیڈروں نے یورپی وفد کو بتایا کہ ’یمن میں کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی مشکل درپیش ہے۔ انہوں نے یورپی وفد کو ’سب ٹھیک ہے‘ کی رپورٹ دی جس پر یورپی وفد صدمے سے دوچار ہوا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ حوثیوں نے یورپی وفد سے کہا کہ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیرملکی مداخلت اور جارحیت ہے۔ وہ اس ‘جارحیت‘ سےنمٹنے کے لیے میزائل حملے جاری رکھیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ سعودی عرب میں موجود اپنے بھائیوں کو بلیک میل کرتے رہیں گے۔

حوثیوں کی طرف سے یمن میں سب اچھا ہی کی رپورٹ دے کر ملک اور عوام پر مسلط کی گئی جارحیت کو فراموش کرگئے۔ حالانکہ یمن میں اصل مسئلہ حوثی باغی خود ہیں جنہوں نے پوری قوم اور ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

المخلافی نے بتایا کہ یورپی وفد نے حوثیوں کی دعوت پر صنعاء کا دورہ کیا۔ یہ وفد اس نتیجے پرپہنچا کہ حوثی باغی امن کے مفہوم سے آگاہ نہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ امن پسند ہیں مگر حقیقی معنوں میں وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ یورپی وفد کے دورہ صنعاء کے بعد حوثیوں کی جارحیت میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔

یمنی وزیرخارجہ نے ایران کی جانب سے فراہم کردہ میزائلوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر ایرانی ساختہ میزائلوں سے حملے پوری دنیا کے لیے پیغام ہیں کہ حوثی ملیشیا امن نہیں چاہتی اور نہ ہی وہ عالمی برادری کے مطالبات اور قراردادوں کو کوئی اہمیت دے رہی ہے۔ حوثیوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور تہران باغیوں کی ہرطرح سے مدد کررہا ہے۔