.

’موت کا پتھر‘ یمنی شہریوں کےخلاف نیا حوثی۔ ایرانی ہتھیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک بین الاقوامی مانیٹرنگ گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغی مبینہ طورپرایران کے فراہم کردہ ’راک بم‘ شہریوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ یمن کے حوثیوں کے پاس اس ہتھیار کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت اور دلیل ہے کہ ایران یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں حوثی شدت پسندوں کو جدید اسلحہ مہیا کرنے میں ملوث ہے۔

مگر العربیہ ڈاٹ نیٹ ستمبر 2017ء میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں بتا چکا ہے کہ ’موت کا پتھر‘ یمنی شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا نیا حوثی ہتھیار بن چکا ہے‘۔ لندن میں قائم ’مرکز تحقیق برائے اسلحہ وجنگ‘ کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں یمن میں پتھر کی شکل میں پائے جانے والے بموں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ دکھائی دینے میں یہ وہی بم لگتے ہیں جو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاں استعمال میں رہے۔ اس کے علاوہ عراق اور بحرین میں باغیوں نے اس اسلحہ کا استعمال کیا۔ یہ ہتھیار صرف ایران میں تیار کیا جاتا ہے اور بیشتر ایسے بموں پر ایرانی مہریں بھی موجود ہیں۔

یمنی فوج کے ایک ذمہ دار ذریعے نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا تھا کہ انہوں نے مغربی ساحلی علاقوں کی حوثی باغیوں سے بازیابی کے دوران اندھا دھند طریقے سے بچھائی گئی بھاری مقدار میں بارودی سرنگیں تلف کیں۔ ان میں سڑکوں اور راستوں کے کناروں پر بچھائی گئی سرنگیں عام پتھر کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ بہ ظاہر دیکھنے سے یہ عام پتھر ہی لگتے ہیں مگر حقیقت میں وہ بم ہوتے ہیں جنہیں حوثیوں کی طرف سے بچھایا گیا ہوتا ہے۔ پتھر نما ان بموں کے اندر بارود بھرا گیا ہوتا ہے جو ہاتھ لگاتے ہی زور دار دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں۔

یمنی فوج کا کہنا ہے کہ ایسی بارودی سرنگوں کی شناخت ایک مشکل کام ہے کیونکہ اب ہر پتھر پر ’راک بم‘ کا شبہ ہوتا ہے۔ فوج کی جانب سے شہریوں میں آگاہی مہم بھی شروع کی گئی اور اس حوالے سے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ سڑکوں پر چلتے ہوئے کسی بھی پتھر کے قریب نہ جائیں، عین ممکن ہے کہ وہ بارودی سرنگ یا بم ہو۔

برطانوی انسانی حقوق گروپ کے مطابق اس نے مغربی یمن کے المخا کے علاقے میں رواں سال جنوری میں ’راک بم‘ دیکھے۔ یہ ایسے ہی ہیں جیسا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے استعمال کیے اور عراق اور بحرین میں بھی باغیوں کے پاس دیکھے گئے تھے۔

یمنی حکومت، اقوام متحدہ اور عرب اتحاد اپنی رپورٹس میں متعدد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کو مسلح کررہا ہے۔ ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ تہران کی طرف سے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل تک فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حوثی شدت پسند یہ اسلحہ سعودی عرب کے خلاف استعمال کرتےہیں۔

اسلحہ ریسرچ سینٹر کے ریجنل اپریشنل چیف ٹیم میشیٹی کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد ایران یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ نہیں پہنچا رہا۔ یمن باغیوں کے ہاتھوں میں وہ ہتھیار موجود ہیں جو ایران میں تیار ہوتے ہیں۔ یمن کی جنگ کو بھڑکانے اور باغیوں کو اسلحہ پہنچانے میں ایرانی کردار کا اس سےبڑا مزید کیا ثبوت ہوسکتا ہے‘۔