.

جرمن BMW میں سواری کرنے والے علی خامنہ ای مقامی مصنوعات کی سپورٹ کے طالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رہبرِ اعلی علی خامنہ کی گاڑی سوشل میڈیا پر ایرانی حلقوں کے درمیان موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس بحث کی چنگاری اُس وقت بھڑکی جب خامنہ نے گزشتہ منگل کو نوروز کے موقع پر اپنے ٹیلی وژن خطاب میں ایرانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرون ملک سے آنے والی درآمدات کے بدلے اپنی مقامی مصنوعات کو سپورٹ کریں۔

یہ جملہ اس بات کے لیے کافی تھا کہ ایرانی عہدے داران جن میں خود خامنہ ای سرفہرست ہیں اُن سب کے زیر استعمال گاڑیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ گردش میں آ گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ عہدے داران خود اپنے "رہبر" کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے میں ناکام رہے۔

رہبر اعلی کی ایران میں لی گئی ایک تصویر کو بڑے پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی جس میں وہ جرمنی کی تیار کردہ "BMW" گاڑی میں سے اتر کر آ رہے ہیں۔ اس تصویر کو ہزاروں مرتبہ دوبارہ سے پوسٹ کیا گیا اور پھر اس کا موازنہ شاہ ایران کے دور میں ایرانی وزیراعظم شہزادہ امیر عباس کی تصویر کے ساتھ کیا گیا جنہوں نے 1960ء کی دہائی میں مقامی طور پر تیار کی گئی پہلی گاڑی چلائی تھی۔

اس صورت حال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ "شاہ ایران پہلوی کی حکومت کے بدعنوان وزیراعظم کے پاس تو مقامی تیار کردہ گاڑی جب کہ ایران کا روحانی پیشوا لاکھوں ڈالر کی کفار کی تیار کردہ گاڑی میں سوار ہے"۔

بعض دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای جو مقامی مصنوعات کی سپورٹ کی راہ تک رہے ہیں وہ خود سر پر ہندوستانی ریشم کی "پگڑی" باندھتے ہیں۔

اس سلسلے میں خامنہ ای کی مقرّب شخصیات بھی تنقید کی زد میں آنے سے نہیں بچ سکیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر غلام علی حداد عادل اور ان کے اہل خانہ کی تصاویر گردش میں آئی ہیں جن میں وہ برطانیہ میں ملبوسات کے ایک مشہور مرکز میں خریداری کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ایک صارف نے اپنی ٹوئیٹ میں تبصرہ کیا کہ "یہ خامنہ ای کے داماد کے والد علی حداد عادل کی تصویر ہے جو اپنے کپڑوں کی خریداری شرپسند برطانیہ سے کر رہے ہیں۔