حوثیوں نے دوسروں کومسترد کیا،ان کی بغاوت دنیا تسلیم نہیں کرتی: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس نے حوثی باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کے خلاف لڑائی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی بغاوت کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں متعین روسی سفیر فلادی میر ڈیڈوشکین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے آئینی حکومت اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کو تسلیم نہیں کیا اور عالمی برادری ان کی بغاوت کو نہیں مانتی۔

ڈیوشکین نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے اپنے حامی سابق صدر اور پیپلز کانگریس کے سربراہ علی عبداللہ صالح کو قتل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی صالح کے قتل کے بعد روس نے صنعاء سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلالیا تھا۔

روسی سفیر نے کہا کہ ان کے ملک سمیت عالمی برادری یمن میں آئینی حکومت کو تسلیم کرتی اور باغیوں کے انقلاب کو مسترد کرچکی ہے۔ علی عبداللہ صالح کے قتل کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حوثی کسی دوسرے کو قبول نہیں کرتے۔

یمنی صدر کے مشیر عبدالعزیز جباری سے ملاقات کے دوران روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں سیاسی استحکام ، ریاستی اداروں کی بحالی اور دیر پا قیام امن کی مساعی جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں