.

خامنہ ای شرح پیدائش بڑھانے کے منصوبے سے پلٹ گئے، اہل کاروں کو دوسری شادی پر دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی نظام کے رہبر اعلی علی خامنہ کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری ہوا ہے جس میں انہوں نے "تعدّد ازواج" (ایک سے زیادہ شادیوں) کے پسندیدہ ہونے سے متعلق خود سے منسوب فتوے کی تردید کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے دفتر کے ملازمین کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے دوسری شادی کی تو اُسے برخاست کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل خامنہ ای نے بچوں کی پیدائش میں اضافے سے متعلق پالیسیوں کو آسان تر بنا کر آبادی میں اضافے کے منصبوے کا اعلان کیا تھا۔ لہذا خامنہ ای کے حالیہ بیان کو اپنے سابقہ منصوبے سے واضح طور پر پیچھے ہٹ جانا شمار کیا جا رہا ہے۔ رہبر اعلی کا یہ رجوع کچھ عرصہ قبل ہونے والے عوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں ایرانی شہریوں نے ملک میں مہنگائی ، ابتر معاشی حالات اور اقتصادی اور سیاسی بحرانات کے جاری رہنے پر اپنے غم و غصّے کا اظہار کیا تھا۔

ایرانی ٹی وی اور ریڈیو براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے زیر انتظام یُوتھ جرنلسٹس کلب نے پیر کے روز ایک رپورٹ میں بتایا کہ خامنہ ای نے تعدّد ازواج سے متعلق خود سے منسوب فتوے کے جواب میں کہا کہ " میں ایک سے زیادہ شادیوں کو قبول نہیں کرتا۔ میں ذمّے داران اور عہدے داران کو ہدایت کر چکا ہوں کہ انہیں تعدّد ازواج کے موضوع پر کسی طور گفتگو نہیں کرنا چاہیے یہاں تک کہ لطیفے کی صورت میں بھی نہیں"۔

مذکورہ نیوز ایجنسی کے مطابق رہبر اعلی نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران خود سے منسوب فتوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی موجودہ صورت حال میں ایک سے زیادہ شادیاں ناقابل قبول امر ہے۔ خامنہ ای نے دھمکی دی کہ اگر ان کے دفتر میں کسی بھی اہل کار نے دوسری شادی کی تو اسے ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ متعدد نیوز ویب سائٹس نے خامنہ ای کے حوالے سے ایک فتوی نشر کیا تھا جس میں ایک سے زیادہ شادیوں کو پسندہ امر باور کرایا گیا اور اسے زیادہ بچوں کی پیدائش سے متعلق خامنہ ای کے سابقہ بیان کے ساتھ جوڑا گیا۔

یاد رہے کہ 2014ء میں ایرانی رہبر اعلی نے آبادی میں اضافے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ ایرانی پارلیمنٹ نے اسی سال جولائی میں ایک قانونی بل کے ضمن میں اس منصوبے کی توثیق کی تھی۔

خامنہ ای نے سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ سوشل سکیورٹی میں بچوں کی پیدائش اور خواتین اور مردوں میں بانجھ پن کے علاج کے اخراجات بھی شامل کیے جائیں۔ خامنہ ای نے منع حمل کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مغرب کی اندھی تقلید ہے۔ رہبر اعلی نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کی آبادی کم از کم 15 کروڑ تک پہنچائی جائے۔

البتہ آبادی میں اضافے کے منصوبے کو ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ سیاسی ، اقتصادی اور علمی حلقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ ایرانی شہریوں کو درپیش سخت معاشی حالات ہیں جب کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے سبب عوام آسودہ زندگی کی سادہ ترین ضروریات سے بھی محروم ہیں۔