سعودی عرب پرحوثیوں کا حملہ ان کی شکست کا ثبوت ہے:ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو روز قبل یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر سات میزائل حملوں کو یمنی باغیوں کی شکست کی علامت قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے ثابت ہوگیا ہے کہ حوثی کم زور اور شکست خوردہ ہوچکےہیں۔

امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘ کے ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے بحران کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ انتہا پسند جماعتوں اور دہشت گردوں کی طرف سے ’اسلام کو اغواء‘ کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کی شام یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر سات بیلسٹک میزائل داغے تھے جنہیں سعودی خود کار دفاعی نظام نے فضاء ہی میں تباہ کردیا تھا۔ تاہم ان کے شیل لگنے سے ایک مصری شہری مارا گیا۔

ایران کے جوہری پروگرام کےحوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ تہران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا نہیں۔ اس معاہدے سے ایران جوہری بم تیار کرنے میں تاخیر کرے گا مگر یہ معاہدہ اسے ایٹمی ہتھیاروں سے روک نہیں سکتا۔

واضح رہے کہ امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں نے سنہ2015ء کو ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کےتحت ایران کو جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے میں عالمی سطح پرعاید کردہ پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا سمجھوتہ خطرے میں ہے۔ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو ایران کےلیے مفید اور عالمی برادری کے لیے خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنےحالیہ دورہ امریکا کے دوران کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایسا سمجھوتہ ہونا چاہیے جس کے تحت وہ کوئی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ نیز ایران کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی سازشوں سے بھی باز رکھا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں