لبنان میں شیعہ عالم کو پیانو بجانے پر مدرسے سے نکال دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان میں ایک شیعہ عالم کو پیانو بجانے پر مدرسے سے نکال دیا گیا ہے۔ 38 سالہ شیعہ عالم سید حسین الحسینی نے پیانو بجاتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو انٹر نیٹ پر پوسٹ کی تھی۔ وہ ایک پختہ شاعر ہیں ۔انھوں نے عالم کے روایتی تشخص کو چیلنج کیا تھا لیکن انھیں اس طرح پیانو بجانا مہنگا پڑ گیا ہے۔

حسینی نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ مذہبی تعلیم دنیا ، لوگوں یا دوسری تعلیم سے الگ تھلگ نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ مدرسہ الثقلین نے مجھے نکال دیا ہے اور وظیفہ بھی بند کردیا ہے لیکن مدرسے نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ عراق کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ علی سیستانی کا کہنا ہے کہ پیانو بجانے یا کلاسیکی موسیقی کی اسلام میں ممانعت نہیں ہے۔

لیکن حسینی کو آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بعض مذہبی قائدین نے ان کے پیانو بجانے کو دستار ( پگڑی) بند عالم کی توہین قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا ہے:’’ میں موسیقی اور آرٹ کا دلدادہ ہوں لیکن میرے لیے ایک عالم کو پیانو بجاتے ہوئے دیکھنا ناممکن ہے۔دستار مقدس ہے اور مجھے اس کی بے توقیری کرنے والے پر تنقید کا حق حاصل ہے‘‘۔

حسینی نے مارچ ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ویڈیو پوسٹ کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس کو ایک گھنٹے میں 10 ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا تھا۔

حسینی اپنی نظمیں بھی باقاعدگی سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں ۔وہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے نغمے بھی لکھتے ہیں ۔وہ ایک مذہبی عالم کی ایسی تقدس مآب شناخت کے حق میں نہیں جو ان کے بہ قول پیانو نہ بجا سکے اور ایک خاص طرز ِعمل اختیار کرے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’ مذہبی شخصیات کو خاص طرز ِعمل اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ آہستہ روی سے بات کرتے ہیں ۔وہ سست روی سے چلتے ہیں جیسے وہ موت کے کرب میں مبتلا ہوں اور وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے ایسا کریں کہ وہ روحانی قائد ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں