.

ایران پر دباؤ فوجی ٹکراؤ سے روک دے گا: سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالے تا کہ خطّے میں عسکری مقابلے سے گریز کیا جا سکے۔

امریکی اخبار The Wall Street Journal سے گفتگو کرتے ہوئے بن سلمان کا کہنا تھا کہ "پابندیوں سے ایران پر مزید دباؤ پڑے گا"۔

سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ "اگر ہم عسکری تنازع سے اجتناب میں کامیاب نہ ہو سکے تو غالب گمان ہے کہ آئندہ 10 سے 15 برسوں کے دوران ایران کے ساتھ جنگ میں کودنا پڑے گا"۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے گزشتہ ہفتے وہائٹ ہاؤس میں شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، وہ کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کا سہارا لے سکتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی پالیسی کے سخت ترین مخالفین کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا ہے۔ ان میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نمایاں ترین ہیں۔ تاہم امریکا کے یورپی حلیف ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

یمن کی جنگ کے بارے میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ " اگر ہم 2015ء میں مداخلت نہ کرتے تو یمن حوثیوں اور القاعدہ کے درمیان تقسیم ہو چکا ہوتا"۔

سعودی عرب یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف آئینی حکومت کوسپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔

بن سلمان کی امریکی اخبار کے ساتھ گفتگو حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت پر 7 بیلسٹک میزائل داغے جانے کے 3 روز بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی دفاعی نظام نے اتوار کے روز داغے جانے والے ان ساتوں میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا تھا۔ تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے لگنے سے مملکت میں مقیم ایک مصری باشندہ جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

بن سلمان نے حوثیوں کی جانب سے میزائلوں کے داغے جانے کو "کمزوری کی علامت" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ ڈھیر ہونے سے پہلے انتہائی حد تک کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں"