.

بغداد: قتل اور لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث سب سے بڑا گروہ پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت داخلہ کے ایک اعلان کے مطابق دارالحکومت بغداد میں چوری، قتل اور مسلح لوٹ مار میں ملوث سب سے بڑے اور خطرناک ترین گروہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس گروہ نے الکرخ اور الرصافہ کے علاقوں میں 50 وارداتیں کیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان سعد معن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گروہ کے ارکان بعض مرتبہ اپنی وارداتوں میں فوجی وردی اور مختلف گاڑیوں کا استعمال کرتے تھے جن میں ٹیکسیاں بھی شامل ہیں۔ معن کے مطابق گروہ کے 7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جنہوں نے وزارت داخلہ کی جانب سے عائد کردہ الزامات سے متعلق تمام جرائم کا اعتراف کر لیا۔

دیگر گروہ

اس کے علاوہ 13 افراد پر مشتمل ایک دوسرا گروہ بھی پکڑا گیا جس نے قتل اور چوری کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ گروہ 43 گاڑیاں چوری کر چکا ہے۔ اس نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اغوا کرنے اور اس سے رقم چھیننے کی کوشش کے بعد ڈرائیور کو قتل کر دیا تھا۔

رواں برس جنوری سے اب تک بغداد میں پکڑے جانے والے جرائم پیشہ گروہوں کی وارداتوں میں اسلحے کے زور پر لوٹ مار، بغداد کے مشرقی حصّے میں دھماکا خیز آلات نصب کرنا اور دولت مند شخصیات اور ڈاکٹروں کے اغوا برائے تاوان کی کارروائیاں شامل ہیں۔

ان گروہوں کا کوئی مخصوص ٹھکانہ مقرر نہیں اور یہ دارالحکومت کے مرکز سے دور علاقوں میں سرگرم رہتے تھے تا کہ آسانی کے ساتھ متحرک رہیں اور فرار ہو سکیں۔

یہ گروہ گھروں میں گھس کر بھی لُوٹ مار مچاتے تھے۔ ایک گروہ نے کرنسی ایکسچینج مراکز کے پڑوس میں دکانیں کرائے پر لیں اور پھر رات میں نقب لگا کر ان مراکز سے 60 ہزار امریکی ڈالر کے قریب رقم چوری کر لی۔ اس کے علاوہ یہ سرکاری دستاویزات کی جعل سازی میں بھی ملوث رہا۔

سال 2016ء میں 145 گروہوں کو پکڑا گیا جو قتل، اغوا اور مسلح لوٹ مار کے علاوہ منشیات کے کاروبار اور جعل سازی میں ملوث تھے۔ سال 2017ء میں قانون کی گرفت میں آنے والے جرائم پیشہ گروہوں کی تعداد بڑھ کر 193 ہو گئی۔ رواں برس 2018ء میں بغداد میں انسداد جرائم کے ڈائرکٹوریٹ کے ہاتھوں اب تک گرفتار ہونے والے گروہوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ سال 2017ء کے دوران 1008 جرائم پیشہ افراد کو سزا سنائی گئی جس میں سزائے موت، عمر قید، عارضی قید اور دیگر سزائیں شامل ہیں۔