.

فلسطینی صدر کی گالم گلوچ کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کا کہنا ہے کہ "اگر فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے تو یقینا کوئی دوسرا شخص ایسا کر گزرے گا"۔

اسرائیل کے چینل 10 کے مطابق فریڈمین کا مزید کہنا تھا کہ "خلاء پُر ہونے کی پوری امید ہے۔ اگر خلاء پیدا ہوا تو یقینا کوئی شخصیت اس کو پُر کر دے گی اور ہم تصفیے کے عمل میں آگے کی جانب بڑھیں گے"۔

فریڈمین کے مطابق "امریکا فلسطینی عوام کی مدد کر رہا ہے، اگر فلسطینی قیادت ہمارے ساتھ اس راستے پر نہ ہوئی تب بھی ہم فلسطینیوں کی زندگی بہتر بنانے کی خواہش سے دست بردار نہیں ہوں گے"۔

دسمبر 2017ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد یہ کسی بھی امریکی عہدے دار کا فلسطینی صدر کے خلاف سخت ترین بیان ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد فلسطینی قیادت نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تمام تر سیاسی رابطے معطّل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل ڈیوڈ فریڈمین اپنے کئی بیانات سے فلسطینیوں کو چراغ پا کر چکے ہیں۔ اس امر نے فلسطینی صدر کو اپنے آخری خطاب میں گالم گلوچ پر مجبور کر دیا اور انہوں نے فلسطینی قیادت کے سامنے فریڈمین کو "کتّے کی اولاد" قرار دیا۔

فریڈمین اعلانیہ طور پر فلسطینی اراضی میں یہودی بستیوں کی آبادکاری کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ آباکاروں کا حق ہے کیوں کہ فلسطینی اراضی ان یہودیوں کی سرزمین ہے۔ فریڈمین مغربی کنارے کو متنازع علاقہ قرار دیتے ہیں۔