اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 14 فلسطینی شہید، 500 زخمی

اسرائیلی فوج نے زمین سے محبت کی پاداش میں یوم الارض مارچ میں شریک فلسطینی خون میں نہلا دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور ربڑ کی گولیاں چلانے سے 14 افراد شہید اور 500 زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطین میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے خلاف گزشتہ 6 ہفتوں سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم 30 مارچ سے ان مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور مظاہرین کی جانب سے صرف غزہ میں 700 میٹر پر محیط طویل خیمے لگا دیئے گئے ہیں جسے روکنے کے لیے قابض اسرائیلی فوج نے مظاہرین کیمپ کے سامنے 100 سے زائد اسنائپر متعین کردیئے ہیں۔

غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 14 فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے ہیں جب کہ مظاہرین ہر آنسو گیس کی شیلنگ، ربڑ کی گولیاں اور براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے 30 مارچ 1976ء میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی مناسبت سے کیے جا رہے تھے اور اس بار امریکا کی جانب سے یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے بعد سے ان مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔

فلسطینی شہریوں کی شہادت کا یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب فلسطین بھر میں تیس مارچ کو ‘یوم الارض‘ کے حوالے سے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ غزہ کی پٹی میں سب سے بڑا ملین مارچ غزہ کی سرحد کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں