.

یمن : حوثیوں کے سبب اسکولوں کے 40 لاکھ طلبہ تعلیم سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تازہ ترین اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ حوثی ملیشیا کی ریاست کے خلاف بغاوت اور یمنی عوام کے خلاف جنگ کی وجہ سے 40 لاکھ طلبہ اور طالبات اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو چکے ہیں۔

یمنی اسکالر ڈاکٹر عمر ردمان کے ایک ریسرچ پیپر کے ضمن میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تعلیم کے سیکٹر کے خلاف جرائم اور خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں اسکول کے طلبہ کی بھرتی اور اساتذہ کی تنخواہوں کو ہضم کر لینے کے علاوہ درجنوں اسکولوں کی تباہی اور انہیں عسکری چھاؤنیوں میں تبدیل کیا جانا اہم ترین ہے۔

باغی ملیشیا 3548 کے قریب اسکولوں کی بندش کا سبب بنی اور اس نے تعلیمی نصاب کو فرقہ وارانہ نصاب سے تبدیل کر دیا جس کے نتیجے میں معاشرے میں انقسام کی صورت حال پیدا ہو گئی۔

ریسرچ پیپر کے مطابق حوثی ملیشیا نے بہت سے اساتذہ کو تبدیل کیا اور کئی کو دھمکیاں دیں۔ اس کے علاوہ تنخواہوں کا مطالبہ کرنے والے یا تدریسی عمل کا بائیکاٹ کر کے ہڑتال کرنے والے اساتذہ کو زدوکوب بھی کیا گیا۔

یاد رہے کہ بچوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ مدرسین کی تنخواہوں کے روکے جانے سے یمن میں 45 لاکھ بچوں کے تعلیم سے محروم ہو جانے اور 13 ہزار اسکولوں کی مکمل بندش کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 60 لاکھ طلبہ کے تعلیمی عمل کو نقصان پہنچا ہے۔