.

اسرائیلی طیاروں نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی اخباری رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مارچ کے مہینے کے دوران ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے F-35 طیاروں نے آذربائیجان کے ایک ہوائی اڈے سے اڑان بھر کر ایران میں جاسوسی کا مشن انجام دیا۔

اسرائیلی میڈیا نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ دو F-35 طیاروں نے ایران کی سرزمین پر جاسوسی کا مشن پورا کیا۔ اس دوران بندر عباس، اصفہان اور شیراز میں اہداف کا پتہ چلایا گیا۔ اسرائیلی طیاروں انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شام میں روسی ریڈاروں سے تجاوز کرتے ہوئے عراق پہنچے اور پھر وہاں سے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔

واضح رہے کہ F-35 طیارے کی خصوصیت ہے کہ ریڈار کے ذریعے اس کا انکشاف نہیں ہوتا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے وزیر ازرائیل کیٹس نے 21 مارچ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ 2007ء میں شامی جوہری ری ایکٹروں پر اسرائیلی بم باری ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل تہران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیے جانے کے بعد کہ اس نے 2007ء میں دیر الزور میں الکبر کے مقام کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ کیٹس نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "مذکورہ آپریشن اور اس کی کامیابی سے واضح ہو گیا کہ اسرائیل کسی طور بھی اپنی اُن ممالک کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا جو اسرائیل کی بقاء کو دھمکی دیتے ہیں۔ ان میں اُس وقت شام تھا اور آج ایران ہے"۔

اسرائیل 2007ء میں ایک فضائی حملے کے ذریعے شام میں مبینہ جوہری ری ایکٹر کو تباہ کر دینے کا اعتراف کر چکا ہے۔