.

شام: دوما سے شہریوں کے انخلا کا سمجھوتہ، جیش الاسلام کے ہتھیاروں کا معاملہ بدستور معلّق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں جیش الاسلام تنظیم اور روس کے درمیان پہلا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت مشرقی غوطہ میں اپوزیشن گروپوں کے آخری گڑھ دوما سے شہریوں کا انخلاء عمل میں آئے گا۔ البتہ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق جنگجوؤں اور ان کے ہتھیاروں کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کے روز المرصد نے واضح کیا کہ "جُزوی معاہدہ غوطہ سے نکلنے کے خواہش مند 1300 شہریوں کو اِدلب کی سمت جانے کی اجازت دے گا۔ جیش الاسلام کے جنگجوؤں سے متعلق معاملے پر حتمی معاہدے کے لیے بات چیت جاری ہے"۔

ہفتے کی شب باخبر مقامی ذرائع نے بتایا تھا کہ دوما سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے جیش الاسلام اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

اس وقت جاری مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ زیر محاصرہ شہر دوما پر شامی فوج اور اس کے حلیفوں کے حملے سے اجتناب کے واسطے جلد کسی سمجھوتے تک پہنچا جائے۔

خيار منبج

روس نے جیش الاسلام کے جنگجوؤں کو منبج چلے جانے اور شہریوں کے غوطہ میں باقی رہنے کا آپشن پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے غوطہ میں شامی ریاستی اداروں کی واپسی ، جنگجوؤں کے بھاری ہتھیاروں کے تلف کیے جانے کے علاوہ بعض مطلوبہ افراد کو معافی دیے جانے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

تاہم جیش الاسلام نے اس پیش کش بالخصوص ہتھیار ڈال دینے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اس کے جنگجوؤں نے دوما میں باقی رہنے اور سیف زون کے معاہدے کی تجدید کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا۔

روس کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت ہفتے کے روز مشرقی غوطہ کے جنوبی حصّے سے جنگجوؤں اور شہریوں کی آخری کھیپ کا انخلاء عمل میں آیا۔ اس سمجھوتے کے تحت 41 ہزار سے زیادہ افراد منتقل ہوئے جس کے بعد شامی حکومت نے اعلان کیا کہ مذکورہ علاقہ اپوزیشن گروپوں سے "خالی" ہو چکا ہے۔ شامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اپوزیشن جنگجوؤں اور ان کے گھرانوں کی آخری کھیپ غوطہ شرقیہ کے قصبوں جوبر ، زملکا ارو عین ترما سے نکل کر اِدلب کی جانب روانہ ہوئی۔

دوسری جانب شامی حکومت کی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ دوما کے نواح میں جیش الاسلام تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔

عربین ، زملکا اور عین ترما کے قصبوں سے فیلق الرحمن تنظیم کے جنگجوؤں کے انخلاء کے بعد شامی فوج نے مشرقی غوطہ کے 95% رقبے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انسانی حقوق کے شامی گروپ المرصد کے مطابق 18 فروری سے مشرقی غوطہ میں جاری شدید حملوں میں 1600 سے زائد شامی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔