.

فلسطینی مظاہرین کے خلاف کارروائی میں شریک تمام فوجی تمغے کے مستحق ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین کا کہنا ہے کہ اُن کی فوج نے اسرائیل کے ساتھ غزہ پٹی کی سرحد پر حملہ کرنے والے مظاہرین کے ساتھ مناسب برتاؤ کرتے ہوئے انہیں صرف فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے لیبرمین نے کہا کہ "اسرائیلی فوجیوں نے وہ کچھ کیا جو لازم تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تمام فوجی تمغے کے مستحق ہیں۔ جہاں تک تحقیقاتی کمیٹی کا تعلق ہے تو ایسی کوئی کمیٹی نہیں ہو گی"۔

لیبرمین نے دعوی کیا کہ "جن لوگوں نے پر امن احتجاج کیا انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی" یعنی کہ انہیں فائرنگ کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اگرچہ گزشتہ دو روز کے دوران گردش میں آنے والی کئی وڈیوز اس دعوے کی برعکس صورت حال دکھا رہی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس نے فلسطینی مظاہرین کی ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی ذمے دار فیڈریکا موگرینی، ایمنیسٹی انٹرنیشنل تنظیم اور اسرائیل میں بائیں بازو کی حزب اختلاف کی میرٹس پارتی کی سربراہ تامار زینڈبرج کی جانب سے بھی اسی مطالبے کو دہرایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی حالیہ بربریت اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر کوئی بھی مذمتی قرار داد منظور کرنے میں ناکام ہو گئی۔ غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں پر امن ریلیوں کے خلاف اسرائیلی کریک ڈاؤن کا نشانہ بننے والوں کے سوگ میں فلسطین کے تمام شہروں میں ہفتے کے روز مکمل ہڑتال دیکھنے میں آئی۔

فلسطینی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق "یوم سرزمین" کے موقع پر ہونے والے پر امن مطاہروں کے دوران غزہ پٹی میں 17 فلسطینی جاں بحق اور 1500 کے قریب زخمی ہو گئے تھے جب کہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فائرنگ اور شیلنگ سے تقریبا 120 فلسطینی زخمی ہوئے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق توقع ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ مئی کے نصف تک جاری رہے گا جب کہ اسرائیلی غاصبانہ ریاست کے قیام کو 70 برس پورے ہو جائیں گے۔ ادھر اسرائیلی عسکری ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ تشدد کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں قابض فوج کے رد عمل کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔

دوسری جانب سیاسی میدان میں سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز سلامتی کونسل کی جانب سے بیان کے اجرا میں رکاوٹ پیدا کر دی۔ بیان میں اسرائیل کے خود کو قابو میں رکھنے اور غزہ پٹی میں اسرائیلی فائرنگ سے 17 فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جانا تھا۔

سلامتی کونسل میں عرب دنیا کی نمائندگی کے حوالے سے کویت نے ایک بیان کا مسودہ پیش کیا تھا۔ اس میں خاص طور پر اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ ، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تقریبا ڈیڑھ درجن فلسطینیوں کے جاں بحق اور ڈیڑھ ہزار کے زخمی ہونے کی "آزادانہ اور شفاف تحقیقات" کا مطالبہ کیا گیا۔

تاہم کویت کی طرف سے جمعے کے روز پیش کیا جانے والا مسودہ ہفتے کے روز سلامتی کونسل میں امریکا کی طرف سے اعتراض کی نذر ہو گیا۔

بیان کے مسودے میں سلامتی کونسل کے ارکان نے تمام فریقوں سے خود کو قابو میں رکھنے اور مزید جارحیت سے رکنے کا مطالبہ کیا اور مشرق وسطی میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بیچ امن عمل کے امکانات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے بیان میں غزہ پٹی کی سرحد پر حالیہ صورت حال کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور پر امن احتجاج کے حق کو باور کراتے ہوئے فلسطینیوں کی جانوں کے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔