.

کم سن نابینا مصری حافظ قرآن انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کا بھی ماہر

عبداللہ السید نے تین ماہ میں قرآن حفظ کیا، ہزاروں عربی اشعار بھی یاد ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی وزارت اوقاف اور مذہبی امور نے ایک کم سن نابینا حافظ قرآن کریم کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ ننھے نابینا حافظ نے نہ صرف قرآن پاک مکمل زبانی یاد کیا ہے بلکہ وہ کتاب اللہ کا انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کرنے کی خداداد صلاحیت کا بھی مالک ہے۔ اس نے جدید وقدیم عربی شاعری کا وسیع ذخیرہ بھی یاد کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری وزارت اوقاف کی طرف سے منعقد کردہ تقریب میں وزیراوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ خود شریک ہوئے۔ اس موقع پر کم عمر حافظ قرآن عبداللہ عمار محمد السید اور اس کے اقارب کی بڑی تعداد کو بھی مدعوکیا گیا تھا۔ یہ تقریب مصرمیں تحفیظ القرآن کے 25 ویں عالمی مقابلے لیے منعقد کی گئی تھی جس میں مصر اور دوسرے ملکوں کے حفاظ قرآن نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر مختار جمعہ نے کہا کہ مجھے پتا چلا کہ ایک بچہ قرآن پاک کی آیات اور صفحات نمبر تک جانتا ہے۔ میں نے بچے کو اپنے دفتر میں بلوایا جہاں اس کا امتحان لیا گیا۔ اس دوران اس نے ایک آیت کی بھی غلطی نہیں کی۔

مصری وزیر کا کہنا تھا کہ نابینا حافظ قرآن ایک سادہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے والد نے اس کے حفظ قرآن میں اس کی مدد کی۔ اس کےساتھ ساتھ اس کے لیے انگریزی اور فرانسیسی اساتذہ کی بھی خدمات حاصل کی گئیں جو اسے ان دونوں زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ سکھاتے رہے۔

تقریب کے دوران ننھے حافظ نے سورۃالفاتحہ کی تلاوت کے بعد اس کا انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا جسے دیکھ کر حاضرین بھی دہنگ رہ گئے۔

بچے کا پورا نام عبداللہ عمار محمد السید ہے شمالی گورنری کے الرمل شہر میں تل الجراد کا رہائشی ہے۔وہ جامعہ الازھر کے ایک اسکول میں زیرتعلیم ہے۔ دو سال قبل جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب کی اس بچے سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس کے تمام تعلیمی اخراجاتات پی ایچ ڈی تک سرکاری سطح پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عبداللہ عمار السید قراۃ عشرہ کے مطابق قرآن پاک کی تلاوت کرسکتا ہے۔ بچے کے والد کو جامعہ الازھر کی طرف سے اس اعزاز میں حج کرانے کا بھی اعلان کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے نابینا حافظ کے والد عمار محمد السید نے کہا کہ ان کے بچے نے صرف تین ماہ میں پورا قرآن کریم مکمل حفظ کرلیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اس کے بعد اس نے قرآۃ عشرہ میں مہارت حاصل کی۔

قراۃ عشرہ کے بعد بچے کو انگریزی زبان کی تعلیم دلوائی گئی اور اس کے بعد فرانسیسی سکھائی گئی جبکہ شیخ الازھر نے اسے شعرو ادب اور دیگر علم وفنون سکھانے کی بھی تجویز پیش کرنے کے ساتھ مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا۔

انہوں نے بتایا کہ عبداللہ السید نے کئی عربی قصاید بھی زبانی یاد کر رکھے ہیں۔ ان میں زمانہ جاھلیت کی شاعری، اموی دور کی شاعری، جدید شاعری، سبع معلقات بھی یاد کر رکھے ہیں۔ نیز اس نے اب تک احادیث کی چھ مشہور کتب کا ایک دورمکمل کرنے کے ساتھ طہ حسین، نجیب محفوظ العقاد، المنفلوطی جیسے بڑے بڑے ادیبوں کی کتب کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اب وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کا لٹریچر بھی پڑھ رہا ہے۔