.

امریکا اگر شام سے نکلا تو دمشق ایران کے ہاتھوں میں چلا جائے گا : ریپبلکن سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سینیٹر لینزی گراہم نے شام سے امریکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نتیجہ داعش تنظیم کے دوبارہ زندہ ہو جانے اور دمشق کے ایران کی گود میں چلے جانے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

اتوار کے روز امریکی چینل فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے رکن گراہم نے واضح کیا کہ "یہ امریکی صدر کی جانب سے کیا جانے والا بدترین انفرادی فیصلہ ہو گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم داعش تنظیم کو ہزیمت کے دہانے پر پہنچا چکے ہیں۔ اگر آپ داعش کو اس دہانے سے دور کرنا چاہتے ہیں تو امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں"۔

شام میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ تقریبا تمام اراضی آزاد کرائے جانے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا تھا کہ وہ امریکی افواج کا جلد انخلاء چاہتے ہیں۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ یہ صورت حال صدر اور امریکی عسکری ذمے داران کے بیچ اختلاف کو جنم دے گی۔ اس لیے ان ذمے داران کی نظر میں داعش کے خلاف جنگ ابھی مکمل ہونے سے دور ہے۔

توقع ہے کہ امریکی قومی سلامتی کونسل رواں ہفتے کے اوائل میں وہائٹ ہاؤس میں جمع ہو گی تا کہ شام میں داعش کے خلاف امریکا کے زیر قیادت مہم کو زیر بحث لایا جائے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلی سطح کے ذمے دار نے بتایا کہ ٹرمپ کے مشیر سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی ایک چھوٹی تعداد کے کم از کم دو برس شام میں باقی رہنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت شام میں 2 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔

لینزی گراہم نے ٹیلی وژن انٹرویو میں امریکی فوجیوں کے جلد انخلاء کے حوالے سے وہائٹ ہاؤس کے مشیروں کے اندیشوں کی بازگشت کو دُہرایا۔ انہوں نے کہا کہ "شام میں اب بھی داعش تنظیم کے 3 ہزار سے زیادہ جنگجو چھپے ہوئے ہیں۔ اگر ہمارے فوجیوں کا جلد انخلاء عمل میں آیا تو تنظیم پھر سے سر اٹھا لے گی ، ترکوں اور کُردوں کے بیچ کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ چھڑ جائے گی اور امریکی وجود کے بغیر دمشق طشتری میں رکھ کر ایرانیوں کے حوالے کر دیا جائے گا"۔