.

حوثیوں نے جامعہ صنعاء کو فرقہ واریت کا اڈہ بنا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی ملیشیا نے سرکاری اداروں کو بھی اپنی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے انہیں تباہ وبرباد کرڈالا ہے۔ یمن کے تعلیمی ادارے، درسگاہیں اور جامعات خاص طورپر حوثیوں کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال دارالحکومت صنعاء میں قائم سب سے بڑی درس گاہ ’صنعاء یونیورسٹی ہے جسےحوثیوں نے اپنے مذموم فرقہ وارانہ مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ جامعہ کے تعلیمی نظام کو ہائی جیک کرتے ہوئے من پسند عناصر کی تعیناتیاں کی جا رہی ہیں یونیورسٹی میں موجود محبت وطن اور فرقہ پرستی سے گریز کرنے والے عملے کو نکالا جا رہا ہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے جامعہ صنعاء حوثیوں کی فرقہ پرستی کا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔

حوثیوں کا تیار کردہ نصاب تعلیم

جامعہ صنعاء میں حوثیوں کی کھلی مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت ادارے نصاب تعلیم میں تبدیلی اور مرضی کا نصاب مسلط کرنا ہے۔ نئے حوثی نصاب میں حوثیوں کے لیڈر حسین بدرالدین الحوثی کو نئے نصاب میں لازمی مضمون کے طورپر شامل کیا گیا ہے جسے بہ ظاہر’عرب ۔ اسرائیل‘ کشمکش‘ کے عنوان سے ظاہر کیا گیا ہے۔یہ نصاب ان لوگوں نے تیار کیا ہے جن کا بہ ظاہر جامعہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان میں یحییٰ قاسم ابو عواضہ،، عدنان احمد الجنید جیسے عناصر شامل ہیں۔ یہ تمام عناصر ایرانی حمایت یافتہ، ایرانی افکار و نظریات کی ترویج کرنے، لبنانی شیعہ ملیشیاحزب اللہ کی حمایت اور بزرگی بیان کرنے والے ہیں جو جامعہ کے اپنے نصاب تعلیم کو تبدیل کرکے اس حوثی شیعہ ملیشیا کی چھاپ قائم کرنے کی مجرمانہ کوشش کررہےہیں۔

انگریزی کا پروفیسر چھابڑی فروش بنا دیا

حوثی شدت پسندوں کی بے جا مداخلت نے جامعہ صنعاء کو کئی با صلاحیت اساتذہ سے محروم کردیا۔ انہی میں ایک نام پروفیسر فواد جدان کا بھی ہے۔ وہ جامعہ میں انگریزی زبان وادب کے استاد تھے مگر حوثیوں کی مسلسل اور بے جا مداخلت کے باعث وہ تدریس ترک کرکے سڑک پر بیٹھ گئے اور معمولی چیزیں فروخت کرکے اپنا گذر اوقات کرنے پر مجبور ہیں۔ پروفیسر جدان حوثیوں کی انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے والے واحد استاد نہیں بلکہ کئی دوسرے اساتذہ کو بھی جامعہ سے مختلف حربوں کے ذریعے نکال دیا گیا ہے۔

بھوک سے مریں یا جبری کے تحت کام

جامعہ صنعاء کےکامرس کالج میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر عمر العمودی نے چپکے سے تدریس کا شعبہ ترک کیا اور خاموشی سے چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں میں مسلسل اور توہین آمیز مداخلت قبول نہیں کرسکتے تھے۔ ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا بھوک سے مرجائیں یا حوثیوں کے جبر کے تحت جامعہ میں ان کا ملازم بن کر کام کروں۔ ان سے حوثیوں کی بے جا خوشاد نہیں ہوسکتی تھی۔

جامعہ صنعاء حوثیوں کے وفاداروں کا گڑھ

حوثیوں نے ملک کے ادارو پرتسلط کے بعد ان میں سےچن چن کر اپنے مخالفین کو باہر کیا۔ بلا جواز برطرفیوں پر احتجاج کا حق بھی چھین لیا گیا۔ جس سرکاری ملازم نے اپنے حقوق کے لیے ہڑتال کی اسے بھی چلتا کیا گیا۔

یوں دیگر اداروں کی طرح جامعہ صنعاء بھی حوثی ملیشیا کے ہمنوا عناصر کا گڑھ بن گئی۔

ایک رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے محض سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر یونیورسٹی کے 600 ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا۔ فارغ کرتے وقت انہیں ادنیٰ درجے کے مالی حقوق بھی نہیں دیے گئے۔

فرقہ وارانہ سرگرمیاں

حوثیوں کی جانب سے نہ صرف جامعہ صنعاء کے سیکڑوں ملازمین کو نکال دیا بلکہ درس گاہ کو فرقہ وارانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا ڈالا۔ کلاس رومز کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے اڈے بنا دیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر حوثیوں کے مقرر کردہ ٹاؤٹ تدریس کی آڑ میں طلباء کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر ڈال رہے ہیں۔