.

مشرقی الغوطہ کے شہر دوما سے جنگجوؤں کا پہلا قافلہ بسوں میں جرابلس روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں کے سب سے بڑے اور مضبوط گروپ نے دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ کے بڑے شہر دوما سے انخلا شروع کردیا ہے اور ان کا پہلا قافلہ بسوں میں شمال مغربی قصبے جرابلس کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی "سانا" کے مطابق جیش الاسلام کے جنگجوؤں کا آٹھ بسوں پر مشتمل پہلا قافلہ سوموار کی دوپہر جرابلس کی جانب چلا گیا ہے۔ان پر 448 افراد سوار تھے ۔ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع جرابلس پر ترک فورسز اور شامی باغیوں کا مشترکہ کنٹرول ہے۔

شامی حکومت نے دوما سے باغیوں اور ان کے خاندانوں کے سمجھوتے کے تحت انخلا کے لیے 50 سے زیادہ بسیں بھیجی ہیں ۔ان کے مکمل انخلا کے بعد مشرقی الغوطہ پر گذشتہ سات سال سے جاری جنگ میں پہلی مرتبہ شامی حکومت کا مکمل کنٹرول ہو جائے گا۔ تاہم جیش الاسلام کی جانب سے دوما چھوڑنے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بھی دوما سے باغی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے انخلا کی اطلاع دی ہے۔البتہ شامی رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جیش الاسلام ہی کے بعض دھڑوں نے دوما اور اس کے نواحی علاقوں کو چھوڑنے اور ان کا کنٹرول شامی حکومت کے حوالے کرنے کی مخالفت کی ہے۔

واضح رہے کہ دوما اور مشرقی الغوطہ میں واقع دوسرے شہروں اور قصبوں کے شہریوں نے سب سے پہلے مارچ 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک شروع کی تھی لیکن شامی حکومت نے ان کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا اور ان کی آبادیوں پر تباہ کن بمباری کی تھی۔

حالیہ ہفتوں کے دوران میں بھی شامی فوج نے ایک جانب مشرقی الغوطہ کا مکمل محاصرہ کررکھا تھا اور دوسری جانب شامی اور روسی لڑاکا طیارے شہری علاقوں پر بلا امتیاز بمباری کرتے رہے ہیں ۔مقامی کارکنان کے مطابق دوما میں ایک لاکھ سے زیادہ خاندان محصور ہو کرر ہ گئے تھے اور کھانے پینے کی اشیاء کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ سخت مشکلات سے دوچار تھے۔

شامی اور روسی فوج کی مشرقی الغوطہ پر حالیہ تباہ کن بمباری کے نتیجے میں 1600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد نے اپنا گھربار چھوڑ کر حکومت کے عمل داری والے علاقوں میں عارضی طور پر پناہ لی ہے۔