.

مدینہ منورہ کا "حال" نصف صدی پہلے جیسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف عربی رسالے "القافلہ" نے اپنی رمضان 1387هجری (دسمبر 1967ء) کی اشاعت میں "مدینہ منورہ : اس کا ماضی اور حال" کے نام سے ایک تصویری سروے رپورٹ شائع کی تھی۔ پروفیسر حکمت حسن کے قلم سے تحریر کردہ اس رپورٹ کے چند اقتباسات قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں :

ترقی کی راہوں پر گامزن مدینہ منورہ

مدینہ منورہ کے اطراف بہت سے قلعے اور بلند مکانات پھیلے ہوئے تھے جو بڑے بڑے پتھروں سے تعمیر کیے گئے تاہم ان میں اکثریت کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ یہاں تک کہ 263 ہجری میں بنائی جانے والی فصیل جس کی 946 ہجری میں تجدید کی گئی تھی وہ بھی شہر کی توسیع کے باعث ختم کر دی گئی۔ اس دوران شہر میں بڑی تعداد میں نئی عمارتوں ، مکانوں ، ہوٹلوں اور اسکولوں کی تعمیر عمل میں آئی۔ مدینے کی زیارت کرنے والا یہ نہیں بھولے گا کہ اس نے شہر کی دکانوں اور سڑکوں پر قدیم اور جدید کا حسین امتزاج دیکھا۔ آئے دن تعمیر ہونے والی شان دار جدید عمارتوں اور وسیع شاہراہوں کے بیچ قدیم تعمیرات کی بہت کم باقیات رہ گئی ہیں۔ مدینے میں پہلے اور دوسرے درجے کے متعدد ہوٹلوں کے علاوہ کئی ریسٹ ہاؤس بھی ہیں۔ اس کے زیادہ تر ہوٹلوں میں ایئرکنڈیشنر اور نئے ساز و سامان کی سہولیات میسر ہیں جس نے اجنبی شخص کے قیام کو آرام دہ اور لطف انگیز بنا دیا ہے۔

مدینہ منورہ کو ممتاز نوعیت کے مرکزی انتظامی نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ یہاں شہریوں کی سہولت کے لیے زیادہ تر سرکاری محکموں کو قباء کے علاقے میں واقع ایک عمارت (کمپلیکس) میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ رات کے وقت مدینہ منورہ بجلی کے قمقموں سے جگمگانے لگتا ہے۔ بجلی کی مسلسل فراہمی کے پیش نظر یہاں کئی صنعتوں نے جنم لیا جن سے مدینہ منورہ کی زندگی کو ترقی حاصل ہوئی۔

ان صنعتوں میں ایک اہم ترین صنعت کھجور کی ہے۔ سال 1372 ہجری میں وزارت زراعت نے مدینہ منورہ میں کھجور اور اس کی مصنوعات سے متعلق ایک ماڈل اسٹیشن قائم کیا۔ اس کے نتیجے میں کھجور کی کاشت سے اعلی سطح پر فائدہ اٹھایا جانے لگا۔ مذکورہ اسٹیشن میں ایسے آلات اور سازوسامان موجود ہے جو کھجوروں کی اقسام کو شمار کرنے ، ان کو دھونے اور صاف کرنے ، ان کے اندر سے گٹھلیاں نکالنے ، ان میں دیگر غذائی اشیاء بھرنے اور مختلف وزن کی پیکنگ میں رکھنے کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ اس کے بعد کھجوروں کو صحت بخش اور پرکشش صورت میں منڈیوں میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ اسٹیشن دن رات کام کرنے لگا اور اس کی پیداواری گنجائش فی منٹ (60) کلو گرام ہو گئی۔

مذکورہ اسٹیشن کے قیام کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں پیکنگ کے دو ملتے جلتے کارخانے بنائے گئے۔ ان کے نام محمود احمد فیکٹری اور عبدالمعين عبدالرحمن فیکٹری ہیں۔ یہ دونوں کارخانے ماڈل اسٹیشن کے ساتھ مل کر ہر سیزن میں بھرپور پیداوار کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں کارخانوں کے ماہر کاری گر ماڈل اسٹیشن کے کاری گروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

کھجور کی صںعت کے علاوہ مدینہ منورہ میں دیگر چھوٹی صنعتیں بھی ہیں۔ ان میں برف کے تین کارخانے اور سوڈا بنانے کا ایک کارخانہ شامل ہے۔

مدینہ منورہ ایک بھرپور ثقافتی تاریخ رکھتا ہے۔ مسجد نبوی کے برآمدوں میں درس کے حلقے لگتے ہیں جہاں بڑے اور جید علماء اور فقہائے کرام طلوع اسلام سے لے کر اب تک علم و معرفت کے موتی بکھیر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ مدینے کی جامعہ اسلامیہ پورے حجاز میں سب سے بڑا تعلیمی مرکز ہے۔

مملکت سعودی عرب میں تعلیم کے پھیلنے سے مدینہ منورہ ریجن میں بھی لڑکے اور لڑکیوں کے لیے درجنوں پرائمری ، سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ اسکولوں کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مدینہ منورہ ریجن میں لڑکوں کے 103 اسکول ہیں جن میں 925 اساتذہ 19,332 طلبہ کو تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔ ان کے علاوہ درجنوں لڑکیوں کے اسکول، اساتذہ کے انسٹی ٹیوٹس اور انڈسٹریل اور ایگری کلچرل اسکول بھی موجود ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں کھیل کے میدانوں ، تجربہ گاہوں ، کتب خانوں کی سہولیات میسر ہیں۔

مملکت میں صنعتی تعلیم عام کرنے کے سلسلے میں 1376 ہجری میں مدینہ منورہ میں ایک بڑے صنعتی اسکول کا افتتاح ہوا۔ یہاں طلبہ کو انٹرمیڈیٹ کے بعد تین سال کے پیشہ ورانہ ڈپلومہ کے حصول کے لیے داخلہ دیا جاتا ہے۔ امتیازی نمبر حاصل کرنے والوں کو اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے۔

البتہ مدینہ منورہ میں بچوں کے لیے صرف دو ماڈل نرسریز موجود ہیں جہاں ڈھائی سے چھ برس کے درمیان کی عمر کے بچوں کو داخلہ ملتا ہے۔ اس کے بعد انہیں پرائمری اسکولوں میں داخلے کے واسطے تیار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ادبی حوالے سے مدینہ منورہ ابھی تک قدیم ترین شہروں میں سے ہے۔ اس کی وجہ یہاں کئی سرکاری اور نجی کتب خانوں کا وجود ہے۔

مدینہ منورہ ان دنوں ترقی کے جدید مرحلے سے گزر رہا ہے اور امید ہے کہ اس کے ثمرات آئندہ چند سالوں میں سامنے آ جائیں گے۔ ہم مدینہ منورہ کو خوب صورت ترین شکل میں دیکھتے ہیں جو بلا شبہ اس شہر کے "ہدایت و رشد" کا مینارہ ہونے کے شایانِ شان معلوم ہوتی ہے۔

**نشریاتی حقوق القافلہ میگزین ، سعودی ارامکو کے پاس محفوظ ہیں۔