.

ایران، اخوان اور انتہا پسند گروپ ’بدی کی تکون‘ ہیں: شہزادہ محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جب کہ ایران، اخوان المسلمون اور انتہا پسند جماعتیں برائی کی تکون ہیں۔ یہ سب اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے دین کا اصل چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ ایرانی رجیم ولایت فقیہ کے نظام کو پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ پوری دنیا پرحکمرانی کرنا چاہتےہیں۔

سعودی ولی عہد نے ان خیالات کا اظہار امریکی جریدہ ’ایٹلانٹک‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ جریدے کے نامہ نگار اور صحافی جیفری گولڈبرگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون خلافت کی ترویج کے لیے جمہوری نظام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور وہ اپنے مرشد عام کے ذریعے اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتےہیں۔

القاعدہ ، داعش اوراخوان المسلمون اسامہ بن ادن، ایمن الظواہری اورداعش کے سربراہ کی طرح انتہا پسند ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، مصر، اردن، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور یمن اپنے اپنے آزادانہ مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بھی وابستہ ہیں جب کہ ’برائی کی تکون‘ ایسا نہیں چاہتی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب ایرانی معیشت کے 60 فی صد پرقابض ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور مصر دونوں شروع سے دہشت گردی کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ہم نے اسامہ بن لادن کو نان الیون کے واقعے سے قبل گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قطر کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ ہم نے قطر پراعتماد کیا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ قطری جلد چیزوں کو سمجھیں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اڈولف ہٹلر سے زیادہ خطرناک ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب میں اہل تشیع معمول کی زندگی گذار رہےہیں۔ انہیں سعودیہ میں کوئی مشکل درپیش نہیں۔ ہم آزادی رائے کی حوصلہ افزائی کرتےہیں اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو دوبارہ ظہور پذیر ہونے سے روکیں گے۔

یمن میں جاری لڑائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد نے کہا کہ حوثی باغیوں نے یمن کے 10 فیصد علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

خواتین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا خواتین ہمارے ملک کی آبادی کا نصف ہیں، اس لئے میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے انجام اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے خطرات موجود ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے مفادات منصفانہ امن کے ساتھ مشروط ہیں۔