.

شہزادہ محمد نے ’وھابیت‘ اور اہل تشیع کے بارے میں کیا کہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ میرے خیال میں ’وھابیت‘ کی اصطلاح کی حقیقی تعریف اور تفسیر کوئی شخص نہیں کرسکتا۔ ہمیں تو یقین نہیں کہ ہمارے ہاں ’وھابیت‘ ہے۔

امریکی جریدہ ایٹلانٹک کے صحافی جیفری گوڈلڈ بیرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں سعودی عرب میں اہل سنت مسلک کے مسلمان آباد ہیں۔ اس کے علاوہ اہل تشیع بھی ہیں۔ ہمارے ہاں اہل سنت مسلک کے چاروں مسالک کے ادارے موجود ہیں۔ جید علماء ہیں۔ افتاء کونسل ہے، ہم اپنے آئین قرآن اور اسلام سے اخذ کرتےہیں۔ہمارے ہاں حنبلی، حنفی، شافعی اور مالکی تینوں مسالک کے علماء اور مکاتب فکر موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہمارا خاندان 600 سال پرانا ہے جو الصفر قصبے جسے بعد میں الدرعیہ کہا گیا میں تھا۔ سعودی ریاست کے بہت پہلے ہمارا خاندان موجود تھا۔ اس قصبے نے پہلی سعودی مملکت کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد ہمارا خاندان جزیرہ عرب میں سب سے مضبوط اقتصادی قوت بن گیا، ہم نے حالات کو بدلا۔ بہت سے شہر تجارت پر لڑتے تھے۔ ہمارے خاندان نے تجارت کی بنیاد پر جاری لڑائی ختم کرائی۔ تین سو سال کے بعد آج وہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ ان میں علماء ہیں، فوجی جرنیل ہیں اور دیگر مختلف شعبوں کے رہ نما لیڈر ہیں۔ انہیں میں ایک الشیخ محمد بن عبدالوھاب تھے۔ ہماری اساس لوگوں کے ایمان پر ہے، اس کے بعد تمام افراد کے مفادات بالخصوص اقتصادی تحفظ تحفظ ہماری ترجیح ہے۔

اہل تشیع کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بسنے والے اہل تشیع کو کوئی مشکل پیش نہیں وہ آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ ایرانی رجیم ہے جو اپنے نظریات اور فلسفہ دوسرے ملکوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران کو ہمارے امور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔