.

غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے ایک سرحدی علاقے میں فائرنگ کرکے ایک فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا ہے۔

غزہ میں فلسطینی وزارت ِصحت کے حکام نے اس شہید نوجوان کی شناخت احمد عرفہ کے نام سے کی ہے اور ا س کی عمر 25 سال تھی۔انھوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے بریج میں جھڑپ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کردی تھی اور ایک گولی اس نوجوان کے سینے میں لگی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کا جائزہ لے رہی ہے اور فوری طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔

غزہ کی پٹی میں گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینی مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 17 فلسطینی شہید اور 1400 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ان میں 760 سے زیادہ براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی فوج کی سفاکیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور آیندہ جمعہ کو فلسطینیوں کے مزید بڑے احتجاجی مظاہروں کی توقع کی جارہی ہے۔

اسرائیل کو فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے بعد انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے کڑی تنقید کاسامنا ہے جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل اس مطالبے کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے اور اس کے انتہا پسند وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے منگل کو ایک ناچ دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’جو لوگ غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد ی باڑ کی جانب آئیں گے ، وہ خود ہی اپنی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کریں گے‘‘۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین اسرائیلی فوجیوں کے لیے کسی خطرے کا موجب نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انھیں براہ ِراست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینیوں کی ہلاکتیں بالکل غیر قانونی ہیں اور سرحد ی علاقے میں مظاہروں سے اسرائیلی فوجیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔