.

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کا ٹھوس موقف ہے: شاہ سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی کوششوں کے ضمن میں مشرق وسطی میں امن عمل کو متحرک کیا جائے۔ انہوں نے باور کرایا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مملکت کا موقف ٹھوس اور ثابت قدمی پر مبنی ہے۔

شاہ سلمان کے مطابق سعودی عرب فلسطینی عوام کے اس قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ان کے لیے ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق شاہ سلمان کا یہ موقف پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت کے دوران سامنے آیا۔ بات چیت میں دونوں شخصیات کے درمیان متعدد علاقائی اور بین الاقوامی معاملات زیر بحث آئے جن میں فلسطین کی حالیہ صورت حال سر فہرست تھی۔

اس موقع پر خادم حرمین نے وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اُس بیان پر شکریہ ادا کیا جس میں ایرانی سپورٹ سے مملکت پر حملے کرنے والی حوثی ملیشیا کے حوالے سے ایک ٹھوس موقف کا اظہار کیا گیا۔ شاہ سلمان نے باور کرایا کہ سعودی عرب یمنی بحران کے سیاسی حل اور وہاں کے عوام کے واسطے انسانی بنیادوں پر امداد کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس دوران امریکی صدر نے زور دیا کہ ایران کی صورت میں موجود خطرے پر روک لگانا چاہیے جو خطّے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہے۔ ٹرمپ نے اس حوالے سے امن و استحکام برقرار رکھنے کے سلسلے میں مملکت کے کردار کو سراہا۔

شاہ سلمان اور ٹرمپ نے عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی کوششوں سے حاصل نتائج کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں خادم حرمین نے شامی بحران کے ایک ایسے حل کی تلاش پر زور دیا جو شام کے عوام کی امیدوں کو پورا کرے اور شام کی سرزمین کی وحدت اور سلامتی کو بھی برقرار رکھے۔

شاہ سلمان نے سعودی ولی عہد کے زیر قیادت مملکت کے وفد کے امریکا میں پرتپاک استقبال پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دورے کے دوران مفید ملاقاتوں اور دستخط کیے جانے والے معاہدوں پر مسرت کا اظہار کیا۔