.

الحدیدہ کی بندرگاہ کو بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں دیا جائے : یمنی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس الزام کو دہرایا ہے کہ باغی حوثی ملیشیا نے الحدیدہ کی بندرگاہ کو عسکری مقاصد ، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کرنے اور بحر احمر کے پانی سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واسطے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یمنی حکومت نے باور کرایا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کو بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں دیے جانے کی ضرورت ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاِریانی نے منگل کے روز اپنی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ عالمی برادری ہفتے کے روز الحدیدہ کی بندرگاہ پر عالمی ادارہ خوراک کے ڈپوؤں میں بھڑکنے والی آگ کی وجوہات کے حوالے سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے۔ یمنی وزیر نے اس کو "طے شدہ واقعہ" قرار دیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ "مذکورہ بندرگاہ پر حوثیوں کا قبضہ جاری رہنے کا مطلب یمنی عوام کے مسائل اور انسانی المیے میں اضافہ ہے"۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیا جانے والا یمنی وزیر کا یہ بیان عرب عسکری اتحاد کی بحریہ کی جانب سے الحدیدہ بندرگاہ کے مغرب میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر ایران نواز حوثیوں کے حملے کو ناکام بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد سامنے آیا۔

سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یمن کی بندرگاہ الحدیدہ کے نزدیک ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے منگل کی دوپہر ٹھیک ڈیڑھ بجے الحدیدہ کی بندرگاہ کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں سعودی عرب کے آئل ٹینکر کو حملے کا نشانہ بنایا لیکن عرب اتحاد کے ایک بحری جہاز نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔

کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ اس حملے سے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور مسلسل ایسے حملوں سے ان ملیشیاؤں اور ان کے پشتیبان ممالک سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو لاحق خطرات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حدیدہ کی بندرگاہ ابھی حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے اور اس کو بحری جہازوں پر حملوں اور میزائل اور دوسرے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔