.

الساعدی القذافی کھلاڑی قتل کیس میں بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی ایک اپیل عدالت نے منگل کے روز باضابطہ طورپر جاری کردہ فیصلے میں کہا ہے کہ سابق مقتول لیڈر معمر قذافی کے بیٹے الساعدی القذافی کو فٹ بال کوچ اور لیبی فیڈریشن کے سابق رکن بشیر الریانی کے قتل کیس سے بری کردیا ہے۔

الساعدی القذافی کی بریت کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ دیگر الزامات کے تحت سامنا کرنے والے کیسز کی وجہ سے جیل میں رہیں گے۔ ان پر 17 فروری کے انقلاب کےدوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوٹ مار جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب مقتول کھلاڑی بشیر الریانی کے صاحبزادے علی الریانی نے عدالتی فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ ظالمانہ ہے اور ان کا خاندان اس کے خلاف اپیل دائر کرے گا۔ علی الریانی کا کہنا تھا کہ الساعدی القذافی ان کے والد پر تشدد اور اس کے بعد ان کے قتل کے مرتکب ہیں اور ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

خیال رہے کہ کھلاڑی بشیر الریانی کو مارچ 2005ء کو الساعدی کی ساحلی تفریحی گاہ میں مردہ پایا گیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ بشیر الریانی کو الساعدی القذافی نے تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ دنوں کےدرمیان تکرار اس وقت ہوا تھا جب کہ الریانی نے کہا تھا کہ الساعدی فٹ کھیلنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔