الساعدی القذافی کھلاڑی قتل کیس میں بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی ایک اپیل عدالت نے منگل کے روز باضابطہ طورپر جاری کردہ فیصلے میں کہا ہے کہ سابق مقتول لیڈر معمر قذافی کے بیٹے الساعدی القذافی کو فٹ بال کوچ اور لیبی فیڈریشن کے سابق رکن بشیر الریانی کے قتل کیس سے بری کردیا ہے۔

الساعدی القذافی کی بریت کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ دیگر الزامات کے تحت سامنا کرنے والے کیسز کی وجہ سے جیل میں رہیں گے۔ ان پر 17 فروری کے انقلاب کےدوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوٹ مار جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب مقتول کھلاڑی بشیر الریانی کے صاحبزادے علی الریانی نے عدالتی فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ ظالمانہ ہے اور ان کا خاندان اس کے خلاف اپیل دائر کرے گا۔ علی الریانی کا کہنا تھا کہ الساعدی القذافی ان کے والد پر تشدد اور اس کے بعد ان کے قتل کے مرتکب ہیں اور ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

خیال رہے کہ کھلاڑی بشیر الریانی کو مارچ 2005ء کو الساعدی کی ساحلی تفریحی گاہ میں مردہ پایا گیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ بشیر الریانی کو الساعدی القذافی نے تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ دنوں کےدرمیان تکرار اس وقت ہوا تھا جب کہ الریانی نے کہا تھا کہ الساعدی فٹ کھیلنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں