.

حوثی جلادوں کا مغویوں پر وحشیانہ تشدد، کئی محروسین مفلوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی طرف سے گرفتار کیے گئے شہریوں پر تشدد کے بدترین حربے استعمال کرتے ہوئے ان پر ظلم کےپہاڑ توڑے جا رہےہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا زیرحراست شہریوں پر وحشیانہ تشدد کی مرتکب ہے اور اس کے جلاد مغویوں پر اتنا تشدد کرتے ہیں کہ وہ اپاہج اور مفلوج ہو رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں اٹھا کر غایب کردیے گئے شہریوں کی ماؤں پر مشتمل اتحاد نے ایک بتایا ہے کہ دوران حراست تشدد کے باعث دسیوں شہری جسمانی طور پرمفلوج کردیے ہیں، ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو جسمانی طورپر کسی قسم کی حرکت کےقابل نہیں رہے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سوموار کے روز مغوی شہری عبدالعزیز الحکمی کے اہل خانہ ان سے ملنے جیل میں گئے تو اہل خانہ یہ دیکھ کر چونک گئے کہ انہیں وہیل چیئر پر رکھا گیا ہے۔

یمن میں مغویوں کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بالخصوص ریڈ کراس، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشن برائے انسانی حقوق سمیت تمام زندہ ضمیر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حوثیوں کے ہاتھوں اغواء کیے گئے شہریوں کی بازیابی اور انہیں ہولناک تشدد سے نجات دلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جیلوں میں قید افراد کو فوری طورپر قانونی اور سیاسی طورپر معاونت کی ضرورت ہے تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔

مغویوں کی ماؤں نے جبری گم شدگی کیسز میں شہریوں پر تشدد کے مرتکب عناصر کو نہتے شہریوں کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

خیال رہے کہ تین سال قبل حوثیوں نے بغاوت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اب بھی حوثیوں کے زیرتسلط جیلوں میں بڑی تعداد میں شہری پابند سلاسل ہیں۔