.

عالمی عدالت غزہ میں تشدد کی آزادانہ تحقیقات کرائے:عرب لیگ

’فلسطینیوں کو اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کا حق ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں فلسطین کے علاقے غزہ میں 30 مارچ کو’یوم الارض‘ ریلیوں پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ عرب لیگ نے عالمی عدالت انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد اور ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل منگل کو قاہرہ میں ہونےوالے عرب لیگ کےاجلاس میں باور کرایا گیا کہ فلسطینی قوم کو اپنے حقوق کےحصول کے لیے ہرطرح کی جدو جہد کا حق ہے۔ دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ فلسطینی اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن احتجاج کا بھی حق رکھتےہیں اور یہ حق انہیں عالمی اداروں کی طرف سے دیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نہتےمظاہرین کا قتل عام سنگین جرم ہے اور عالمی عدالت سمیت دیگر عالمی اداروں کے اس قتل عام اور خون خرابے کی تحقیقات کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔

اعلامیے میں عالمی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ فلسطین سے متعلق منظور کردہ قراردادوں بالخصوص، قرار داد 904 مجریہ 1994ء، قرار داد 605 مجریہ 1987 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ان قراردادوں میں نہتے فلسطینیوں کو تحفظ دلانے اور چوتھے جنیوا معاہدے کے تحت انہیں ان کے حقوق فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے بھی صہیونی فوج کی جانب سے غزہ میں پرامن ریلیوں پر فائرنگ اور وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال قابل مذمت اقدام ہے۔

خیال رہے کہ 30 مارچ کو فلسطین میں ’یوم الارض‘ کی مناسبت سے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے یوم الارض پر مقبوضہ فلسطین کی طرف مارچ کیا تو اسرائیلی فوج ان پر براہ راست فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 18 فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔