.

مصر : دہشت گردی کے الزامات میں اخوان کے 35 ارکان کو عمر قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک فوجداری عدالت نے کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے 35 مبینہ ارکان کو سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں پر حملوں کے لیے دہشت گردی کے سیل تشکیل دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں ۔

سہاج کی فوجداری عدالت نے اسی طرح کے مختلف الزامات میں ماخوذ 155 مدعاعلیہان کو قصور وار قرار دے کر تین سے 15 سال تک جیل کی سزائیں سنائی ہیں ۔ان افراد پر سرکاری شخصیات اور سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے اور ایک کالعدم گروپ میں شمولیت کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔ کالعدم گروپ سے مراد الاخوان المسلمون ہے۔

تمام سزا یافتگان فوجداری عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں ۔ان کے علاوہ 124 مزید مشتبہ بھگوڑوں کے خلاف ان کی گرفتاری کے بعد ان ہی الزامات میں دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

واضح رہے کہ مصرکی عدالتوں نے جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے الاخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں رہ نماؤں اور کارکنان کو تھوک کے حساب سے قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔وہ اس وقت مصر کی مختلف جیلوں میں قید بھگت رہے ہیں لیکن کسی بڑے رہ نما کو تخت دار پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔

عالمی سطح پر فوجداری عدالتوں کے ان فیصلوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بعض مبصرین نے ان سزاؤں کو انصاف کے قتل کے مترادف قراردیا ہے۔امریکا سمیت مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں الاخوان کے کارکنان کو مختلف الزامات میں قائم مقدمات میں سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر کڑی تنقید کرچکے ہیں۔