.

اتحادی فوج نے حوثیوں کا بمبار کشتیاں تیارکرنے والا کار خانہ تباہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے مصروف عرب اتحاد نے الحدیدہ بندرگاہ کو حوثی ملیشیا کے اسلحہ کا گودام میں تبدیل کرنےکی کوششوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ تازہ کارروائی میں عرب اتحادی فورسز نے الحدیدہ میں حوثیوں کی متعدد تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔ان میں بمبار کشتیاں تیار کرنے والا ایک کارخانہ بھی شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نےالریاض میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ عرب اتحاد نے الحدیدہ بندرگاہ کے تمام راستوں سے امدادی سامان کی ترسیل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

المالکی نے کہا کہ قریبا ایک دو ملین یمنی شہری امداد اور ابتدائی نوعیت کے ضروری سامان سے مستفید ہوئے ہیں۔

المالکی نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کا خیر مقدم کیا۔

کرنل المالکی نے کہا کہ حوثی ملشیا بحر الاحمر، باب المندب بندرگاہ اور دیگر سمندری راستوں پر آبی ٹریفک کے لیےسنگین خطرہ ہیں۔ حوثی بمبار کشتیوں کی مدد سے عالمی جہاز رانی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی آئینی حکومت کی وفادار فوج ملک کے مغرب میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یمنی فوج نے عرب اتحادی فوج کی معاون سے تعز میں پیش قدمی کرتے ہوئے الشریجہ ڈاریکٹوریٹ سےباغیوں کو نکال دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کرنل المالکی نے کہا کہ حوثی باغی صعدہ اور شمالی عمران گورنری سے بیلسٹک میزائل داغتے ہیں۔ گذشتہ روز الحدیدہ میں حوثیوں کی بمباری کشتیاں تیار کرنے والی ایک فیکٹری پر بمباری کرکے اسےتباہ کیا گیا۔

کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے گذشتہ عرصے میں سعودی عرب پر 107 میزائل حملے اور 66 ہزار گولے داغے جا چکے ہیں، مگر سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کے سرحد پار سے بیشتر حملے ناکام بنا دیے گئے۔