.

امریکا کی سعودی تیل بردار جہاز پرحوثیوں کے حملے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کی جانب سے بحر الاحمر میں سعودی عرب کے ایک تیل بردار جہاز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو بین الاقوامی بحری تجارتی سرگرمیوں کے لیے اعلانیہ خطرہ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحر الاحمر میں سعودی عرب کے آئل بردار جہاز کو نشانہ بنانا جنگی کارروائی اور جارحیت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ پہنچا کر لڑائی کو طول دینے کی سازش کررہا ہے۔

یاد رہے کہ یمن کی آئینی حکومتی کے خلاف باغیوں کی سرگرمیوں میں ملوث ایران کے اتحادی حوثیوں نے منگل کے روز الحدیدہ کی بندرگاہ کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اطلاع دی ہے کہ یمن کی بندرگاہ الحدیدہ کے نزدیک ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے منگل کی دوپہر سعودی عرب کے تیل کے ایک ٹینکر پر حملہ کیا ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ٹھیک ڈیڑھ بجے الحدیدہ کی بندرگاہ کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں سعودی عرب کے آئیل ٹینکر کو حملے میں نشانہ بنایا ہےلیکن عرب اتحاد کے ایک بحری جہاز نے اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس حملے میں سعودی آئیل ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا ہے ۔اس کے بعد اس نے عرب اتحاد کے بحری جہاز کی معیت میں شمال کی جانب اپنا سفر جاری رکھا ہے۔

کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ اس حملے سے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المنداب میں جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور مسلسل ایسے حملوں سے ان ملیشیاؤں اور ان کے پشتیبان ممالک سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو لاحق خطرات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حدیدہ کی بندرگاہ ابھی حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے اور اس کو بحری جہازوں پر حملوں اور میزائل اور دوسرے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔